کتاب: نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے میں خواتین کی ذمہ داری - صفحہ 89
وَأَتَاہُ فُلاَنٌ،فَأَصَابَ مِنْہُ۔‘‘ قَالَ:’’فَأَتَیْتُہُ فَإِذَا عِنْدَہُ امْرَأَۃٌ وَصِبْیَانٌ،أَوْ صَبِيٌّ،فَذُکِرَ قُرْبُہُمْ مِنَ النَّبِيِّ صلی اللّٰه علیہ وسلم،فَعَرَفْتُ أَنَّہُ لَیْسَ مَلِکُ کِسْرَی وَلاَ قَیْصَرَ۔‘‘ فَقَالَ لَہُ:’’یَا عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ ! مَا أَفَرَّکَ أَنْ یُقَالَ لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰهُ ؟ فَہَلْ مِنْ إِلٰہٍ إِلاَّ اللّٰہُ؟ مَا أَفَرِّکَ أَنْ یُقَالَ:اللّٰہُ أَکْبَر ؟ فَہَلْ شَيْئٌ ہُوَ أَکْبَرُ مِنَ اللّٰهِ عَزَّوَجَلّ؟۔‘‘ قَالَ:فَأَسْلَمْتُ،فَرَأَیْتُ وَجْہَہُ اسْتَبْشَرَ،وَقَالَ:’’إِنَّ الْمَغْضُوْبَ عَلَیْہِمُ الْیَہُوْدُ،وَإِنَّ الضَّالِیْنَ النَّصَارَی۔))[1] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک سوار دستہ -یا انہوں نے کہا:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد آئے۔اور میں تب عقرب نامی جگہ میں تھا،وہ میری پھوپھی اورکچھ لوگوں کو پکڑ کر لے گئے۔‘‘ انہوں نے بیان کیا:’’جب انہیں[قیدیوں کو]رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا،تو انہیں ان کے روبرو قطار میں کھڑا کیا گیا۔‘‘ اس[عدی کی پھوپھی]نے کہا:’’اے اللہ کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)میری خبر گیری کرنے والا دور جا چکا ہے،اولاد ہلاک ہو چکی ہے،میں بہت بوڑھی ہوں اورمیری خدمت کرنے والا کوئی نہیں،آپ مجھ پر مہربانی فرمائیے اللہ تعالیٰ آپ پر مہربانی فرمائے گا۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا:’’تیری خبر گیری کرنے والا کون ہے؟‘‘ [1] المسند ۴/ ۳۷۸-۳۷۹ باختصار۔حافظ ہیثمی ؒ نے اس حدیث کے متعلق تحریر کیا ہے کہ اس کو احمد ؒ اور طبرانی ؒ نے روایت کیا ہے ، اور عباد بن جیش کے سوا باقی روایت کرنے والے [الصحیح] کے راویوں میں سے ہیں ، اور عباد بھی ثقہ ہیں ۔ (ملاحظہ ہو : مجمع الزوائد ومنبع الفوائد ۶/ ۲۰۸)