کتاب: نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے میں خواتین کی ذمہ داری - صفحہ 59
((تُنْکَحُ الْمَرْأَۃُ لِأَرْبَعٍ:لِمَالِہَا،وَلِحَسَبِہَا،وَجَمَالِہَا وَلِدِیْنِہَا،فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّیْنِ۔تَرِبَتْ یَدَاکَ۔[1]))[2] ’’عورت سے چار اسباب کی بنا پر نکاح کیا جاتا ہے:اس کے مال کے سبب،اس کے حسب[خاندان]کی وجہ سے،اس کی خوبصورتی کی بنا پر،اس کے دین کی بدولت،تو دین والی عورت کو حاصل کر،تیرے ہاتھ غبار آلود ہو جائیں۔‘‘ ٭٭٭ (۴)بعض بیویوں کا شوہروں پر عظیم اثر کچھ خواتین نیکی کے کام ترک کرنے اور غلط کاموں کے ارتکاب کے لیے یہ عذر پیش کرتی ہیں کہ وہ ایسا طرز عمل مردوں کے زیر اثر ہونے کی بنا پر اختیار کرنے پر مجبور ہیں،کیونکہ وہ ان کے مقابلے میں بے دست وپا ہوتی ہیں۔بلاشک وشبہ اللہ تعالیٰ نے مردوں کو خواتین پر حکمرانی عطا فرمائی ہے،لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس حقیقت کو تسلیم کیے بغیر بھی چارہ نہیں کہ بعض خواتین کا اپنے شوہروں پر بہت قوی اور گہرا اثر ہوتا ہے۔غوروفکر سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اندرون خانہ کئی ایک معاملات مردوں کی [1] (تَرِبَتْ یَدَاکَ):[تیرے ہاتھ غبار آلود ہو جائیں ] اہل عرب کے ہاں اس جملے کا استعمال عام ہے ، ان کا مقصود مخاطب کے لیے بددعا کرنا نہیں ہوتا ، بلکہ ان کا قصد مخاطب کو تنبیہ کرنا ، اور کسی بات کی ترغیب دینا ہوتا ہے ۔ (ملاحظہ ہو : ہامش صحیح مسلم للشیخ محمد فؤاد عبدالباقي ؒ ۲/۱۰۸۶) [2] متفق علیہ : ملاحظہ ہو : صحیح البخاري ، کتاب النکاح ، باب الأکفاء في الدین ، رقم الحدیث ۵۰۹۰، ۹/۱۳۲ ؛ وصحیح مسلم ، کتاب الرضاع ، باب استحباب نکاح ذات الدین ، رقم الحدیث ۵۳(۱۴۶۶) ، ۲/۱۰۸۶۔متن میں الفاظ حدیث صحیح البخاري کے ہیں ۔