کتاب: نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے میں خواتین کی ذمہ داری - صفحہ 57
((وَالْبَنَاتُ إِلَی الأُمَّہَاتِ أَمْیَلُ،وَلِقَوْلِہِنَّ أَرْغَبُ۔))[1] ’’بیٹیوں کا رحجان ماؤں کی طرف زیادہ ہوتا ہے،اور وہ ان کی بات کو زیادہ قبول کرتی ہیں۔‘‘ یہ کیفیت صرف بیٹیوں ہی کی نہیں،بیٹوں کی ایک کثیر تعداد کا معاملہ بھی ماؤں کے ساتھ ایسے ہی ہے۔کتنے ہی بیٹے ایسے ہیں کہ ان کے باپ انہیں کسی بات کے سمجھانے اور منوانے کی خاطر بہت زیادہ وقت اور محنت صرف کرتے ہیں،لیکن ساری سعی وکوشش بے اثر ثابت ہوتی ہے،لیکن جب اسی بارے میں مائیں مداخلت کرتی ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے شیریں اور نرم ونازک چند کلمات میں ایسی تاثیر ڈال دیتے ہیں کہ افکار میں تغیر پیدا ہو جاتا ہے،خواہشات یکسر تبدیل ہو جاتی ہیں،عزائم کا رخ مکمل طور پر پلٹ جاتا ہے،منصوبوں کی سمت بدل جاتی ہے،بلکہ زندگی کا نقشہ ہی یکسر مختلف ہو جاتا ہے۔بسا اوقات پیاری ماؤں کی آنکھوں سے ٹپکنے والے چند آنسو بتوفیق ِ الٰہی ایسے نتائج پیدا کرتے ہیں جو کہ بیسیوں تقریریں اور دروس پیدا نہیں کر پاتے،ماں کی آنکھوں سے بہنے والے چند قطریں بسا اوقات بیٹیوں سے وہ بات بآسانی منوا لیتے ہیں جن کے منوانے سے قوت وطاقت والے عاجز رہتے ہیں۔باپ کی مخالفت کے باوجود ماں کے کہنے پر ننھے انس رضی اللہ عنہ کا کلمہ توحید پڑھنا ماں کی شدت تاثیر کا منہ بولتا ثبوت ہے۔[2] ٭٭٭ [1] ملاحظہ ہو : مختصر سنن أبي داؤد للحافظ المنذري ۳/۳۹ [2] اس واقعہ کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : کتاب ھٰذا کا ص۷۰-۷۲