کتاب: نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے میں خواتین کی ذمہ داری - صفحہ 47
بِحَظِّہِ مِنْہَا مَنْ عَمِلَ ہٰذِہِ الشُّرُوْطَ مِنَ الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّہْيِ عَنِ الْمُنْکَرِ وَالْإِیْمَانِ بِاللّٰهِ۔))[1] ’’اللہ تعالیٰ کی جانب سے امت کے لیے مقرر کردہ اس فضیلت کو وہی شخص پائے گا جو امر بالمعروف،نہی عن المنکر اور ایمان باللہ کی شروط کو پورا کرے گا۔‘‘ اس آیت کریمہ میں اگرچہ[کُنْتُمْ]کا صیغہ جمع مذکر ہے لیکن اس کے مخاطبین میں مسلمان عورتیں بھی مردوں کے ساتھ شامل ہیں۔ ۳:ارشاد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم: ((مَنْ رَأَی مِنْکُمْ مُنْکَرًا فَلْیُغَیِّرْہُ بِیَدِہِ،فَإِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِہِ،فَإِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِہِ،وَذٰلِکَ أَضْعَفُ الْإِیْمَان۔))[2] ’’تم میں سے جو کوئی برائی کو دیکھے وہ اس کو اپنے ہاتھ سے بدل دے،اگر(ہاتھ سے بدلنے کی)استطاعت نہ ہو تو اپنی زبان سے،اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو اپنے دل سے،اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے۔‘‘ صیغہ مذکر میں عورتوں کا داخل ہونا: اس حدیث شریف میں بھی اگرچہ[مِنْکُمْ]میں خطاب[جمع مذکر]کے لیے ہے لیکن اس کے مخاطبین میں مسلمان خواتین بھی مردوں کے ساتھ شریک ہیں۔ اللہ تعالیٰ علمائے امت کو جزائے خیر دے کہ انہوں نے اس حقیقت کو واضح انداز [1] المحرّر الوجیز ۳/۱۹۵ [2] اس حدیث کو امام مسلم رحمہ اللہ نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت کیا ہے ۔ (ملاحظہ ہو : صحیح مسلم، کتاب الإیمان ، باب کون النہي عن المنکر من الإیمان ، وأنّ الإیمان یزید وینقص ، وأن الأمر بالمعروف والنہي عن المنکر واجبان ، رقم الحدیث ۷۸ ، ۱/۶۹)