کتاب: نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے میں خواتین کی ذمہ داری - صفحہ 299
گزرتے ہوئے نیکی کا حکم دینے،اور برائی سے روکنے سے عورت کے بحیثیت محتسبہ تعین پر استدلال کرنا دور کی کوڑی لانا ہے۔واﷲ تعالی أعلم بالصواب۔ ٭٭٭ (۴)محتسبہ کا اہل بازار سے زیادہ آگاہ ہونے کا مفروضہ اور اس کی حقیقت بعض فاضل معاصرین نے تحریر کیا ہے کہ معاملات کو بحسن وخوبی سر انجام دینے کے لیے ضروری ہے کہ عورتوں کے بازاروں میں،یا بازاروں میں عورتوں کے مخصوص حصوں میں منصب احتساب پر کسی خاتون کو فائز کیا جائے،تاکہ وہ گاہک کے روپ میں بازاروں میں جائے،اور عورتوں سے لین دین کرنے والے دکانداروں کے احوال اور سیرتوں سے آگاہ ہو جائے۔[1] اس مقام پر ہمارا فاضل مصنف سے سوال یہ ہے کہ وہ محتسبہ کے متعلق گفتگو کر رہے ہیں یا محکمہ جاسوسی میں کام کرنے والی خواتین کے متعلق ؟ بازار میں بحیثیت محتسبہ کسی بھی خاتون کی تقرری کی صورت میں اسے گھنٹوں بازار میں اپنی ذمہ داریوں کو سر انجام دینے کے لیے رہنا ہو گا۔ایسی حالت میں وہ گاہک کا روپ دھار کر دکانداروں سے اپنی حقیقی حیثیت کیسے چھپا سکتی ہے ؟ اور اگریہ کہا جائے کہ وہ صرف چند دنوں کے لیے کام کرے گی،دکانداروں کے اس کو جاننے پہچاننے سے پہلے ایک دوسری خاتون کو اس کی جگہ محتسبہ مقرر کر دیا جائے گا ؟ تو اس کے متعلق ہم عرض کریں گے کہ بازاروں میں احتساب کرنے والی باصلاحیت [1] ملاحظہ ہو : نظام الحسبۃ في الإسلام (ٹائپ شدہ اوراق) ص۷۸۔