کتاب: نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے میں خواتین کی ذمہ داری - صفحہ 298
’’وہ کبھی کبھار بازار کا کوئی معاملہ انہیں سونپ دیتے۔‘‘ ٭٭٭ (۳)سمراء رضی اللہ عنہا کا بغرض احتساب بازار میں نکلنا اوراس کی حقیقت بازار میں عورت کے بحیثیت محتسبہ مقرر کرنے کے لیے بعض لوگوں نے حضرت سمراء بنت نہیک رضی اللہ عنہا کے بازار میں[امر بالمعروف اورنہی عن المنکر]کی خاطر نکلنے سے استدلال کیا ہے۔اس واقعہ کا ذکر حافظ ابن عبدالبر نے بایں الفاظ کیا ہے: ((سَمْرَائُ بِنْتُ نَہِیْکٍ الْأَسَدِیَّۃُ(رضی اللّٰه عنہا):أَدْرَکَتْ رَسُوْلَ اللّٰهِ صلی اللّٰه علیہ وسلم وَعُمِّرَتْ،وَکَانَتْ تَمُرُّ فِي الْأَسْوَاقِ،وَتَأْمُرُ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَی عَنِ الْمُنْکَرِ،وَتَضْرِبُ النَّاسَ عَلَی ذٰلِکَ بِسَوْطٍ کَانَ مَعَہَا۔))[1] ’’سمراء بنت نہیک اسدیہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا،اور لمبی عمر پائی۔وہ بازاروں میں سے گزرتیں،نیکی کا حکم دیتیں،اور برائی سے روکتی تھیں،اور دورانِ احتساب لوگوں کو اپنے پاس موجود چھڑی سے مارتیں۔‘‘ اس قصے پر تبصرہ: 1 حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے اس قصے کو بلاسند ذکر کیا ہے۔اس سے استدلال سے پہلے اس کا ثابت کرنا ضروری ہے۔ 2 اگر یہ واقعہ ثابت بھی ہو،تو اس میں یہ تو نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے،یا خلفاء راشدین صلی اللہ علیہ وسلم میں سے کسی نے ان کی بحیثیت محتسبہ بازار میں تقرری کی۔ایک دین وادب والے معاشرے میں کسی بڑی عمر کی عورت کے بازار میں [1] ملاحظہ ہو : المرجع السابق ۴/۱۸۶۳۔