کتاب: نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے میں خواتین کی ذمہ داری - صفحہ 297
انہوں نے جواب دیا:’’وہ رات نماز[تہجد]پڑھتے رہے۔‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’یقینا مجھے فجر کی نماز باجماعت ادا کرنا[ساری]رات قیام کرنے سے زیادہ پسند ہے۔‘‘ زرکلی کی تحریر پر قاسمی کا تبصرہ: استاد زرکلی نے الشفا رضی اللہ عنہاکے متعلق تحریر کیا ہے: ((وَرُبَمَا وَلاَّہَا شَیْئًا مِنْ أَمْرِ السُّوْقِ۔)) ’’وہ کبھی کبھار بازار کا کوئی معاملہ انہیں سونپ دیتے۔‘‘ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے استاد قاسمی نے تحریر کیا ہے: ((وَہٰذَا التَّضْعِیْفُ مِنْ شَیْخِنَا الزَّرْکَلِي فِي قَوْلِہِ:’’وَرُبَمَا‘‘،وَقَوْلِہِ:’’شَیْئًا’‘لاَ یُعْتَدُّ بِہِ،لِأَنَّہُ اسْتِنْتَاجٌ،لاَ نَقْلَ عَنْ أَصْلٍ۔))[1] ہمارے شیخ زر کلی کا یہ کہنا کہ وہ[کبھی کبھار]،اور[کوئی معاملہ][ان کے سپرد کرتے]،ان کا اپنا اجتہاد ہے،روایات میں یہ الفاظ موجود نہیں۔‘‘ استاد قاسمیرحمہ اللہ کے تبصرہ کا تجزیہ: قارئین کرام ! ان کتابوں کو ذرا خود ملاحظہ فرمائیے کہ ان میں اس واقعے کے متعلق الفاظ کیا ہیں ؟ اور پھر خود ہی فیصلہ کریں کہ استاد زرکلی کی نقل کردہ عبارت ان کا ذاتی اجتہاد ہے،یا روایات ہی میں یہ واقعہ انہی الفاظ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔کتاب[الاستیعاب في معرفۃ الأصحاب]اور[الإصابۃ في تمییز الصحابۃ]کے الفاظ یوں ہیں: ((وَرُبَمَا وَلاَّہَا شَیْئًا مِنْ أَمْرِ السُّوْقِ۔))[2] [1] نظام الحکم في الشریعۃ والتاریخ الإسلامي (السلطۃ القضائیۃ) ص ۵۹۲۔ [2] ملاحظہ ہو : ’’الاستیعاب في معرفۃ الأصحاب‘‘ ۴/۱۸۶۹ ؛ و’’الإصابۃ في تمییز الصحابۃ‘‘ ۸/۱۲۱۔