کتاب: نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے میں خواتین کی ذمہ داری - صفحہ 267
’’میرا خیال ہے کہ انہوں نے فرمایا:’’جس کا دل زیادہ دینا چاہے وہ دے دے۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے: ((فَقَالَ عُمَرَ رضی اللّٰه عنہ:’’إِنَّ امْرَأَۃً خَاصَمَتْ عُمَرَ فَخَصَمَتْہُ۔))[1] عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’یقینا ایک عورت نے عمر(رضی اللہ عنہ)سے جھگڑا کیا،اور ان پر غالب آ گئی۔‘‘ قصے سے مستفاد باتیں: 1 ٹوکنے والی خاتون کا عورت ہونا،اور غلط فیصلہ کرنے والے کا امیر المومنین ہونا،غلط فیصلے پر احتساب کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکا۔ 2 قریشی خاتون نے اپنے احتساب کی تایید قرآن کریم سے کی،اور ٹھوس،مضبوط اور قوی احتساب وہ ہی ہے جس کی تایید قرآن کریم یا سنت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو۔ 3 عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرمان الٰہی کے سامنے فوراً جھک گئے،نہ تاویل کی،نہ اظہار ِ تردّد۔بلکہ برسر منبر اپنے سابقہ فیصلے کو واپس لینے کا اعلان فرمایا۔حر بن قیس بن حصن رضی اللہ عنہ نے ان کی سچی تصویر کشی کی ہے: ((وَکَانَ وَقَّافًا عِنْدَ کِتَابِ اللّٰهِ عَزَّوَجَلَّ۔))[2] ’’وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کے سامنے بہت زیادہ رک جانے والے تھے۔‘‘ سچ بات یہ ہے کہ اگر وہ ایسے نہ ہوتے تو[فاروق](رضی اللہ عنہ)ہی نہ ہوتے۔اے ہمارے اللہ ! ہمیں اس بارے میں انہی کے نقش قدم پر چلا۔آمین یارب العالمین۔ ٭٭٭ [1] المرجع السابق ۱/۵۰۹۔ [2] ملاحظہ ہو : صحیح البخاري ، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ ، باب الاقتداء بسنن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم ، جزء من الروایۃ ذات الرقم ۷۲۸۶ ، ۱۳/۲۵۰۔