کتاب: نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے میں خواتین کی ذمہ داری - صفحہ 263
الْأَسْلَمِیَّۃَ رضی اللّٰه عنہا؟ تُوَفِّيَ عَنْہَا زَوْجُہَا وَہِيَ حَامِلٌ،فَوَضَعَتْ بَعْدَ ذٰلِکَ بِأَیَّامٍ،فَأَنْکَحَہَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صلی اللّٰه علیہ وسلم ‘۔))[1] ’’یقینا انہوں نے عمر بن خطاب اور ابی بن کعب(رضی اللہ عنہ)کو آپس میں جھگڑتے ہوئے سنا،تو انہوں[ام طفیل رضی اللہ عنہا]نے کہا:’’عمر بن خطاب سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا سے کیوں دریافت نہیں کر لیتے؟’‘ان کے شوہر فوت ہوئے،اور وہ حمل سے تھیں۔اس کے[کچھ]دن بعد انہوں نے بچے کو جنم دیا،تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نکاح کر دیا۔‘‘ قصے سے مستفاد باتیں: 1 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے علم وفضل،اور امت میں سے دوسرے درجے پر فائز ہونے کے باوجود معصوم نہ تھے،کہ ان کی ہر بات ہر حالت میں حجت ہو۔امام مالک رحمہ اللہ نے کیا خوب بات ارشاد فرمائی: ((کُلُّ أَحَدٍ یُؤْخَذُ مِنْ قَوْلِہِ وَیُتْرَکُ إِلاَّ صَاحِبَ ہٰذَا الْقَبْرِ(رضی اللّٰه عنہ)’‘[2] ’’اس قبر والے رضی اللہ عنہ کے سوا ہر کسی کی بات کو لیا بھی جائے گا،اور چھوڑا بھی جائے گا۔‘‘ 2 حضرت فاروق اعظم اپنے عظیم مقام ومرتبے کے باوجود احتساب سے بالا نہ تھے۔ 3 حضرت ام طفیل رضی اللہ عنہا نے اپنے احتساب کی تایید سنت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے کی،جو کہ تمام کائنات کے انسانوں کی بات اور عمل سے بلند وبالاہے۔اس کے مقابلے میں [1] المسند ۶/۳۷۵ - ۳۷۶۔ حافظ ہیثمی ؒ نے اس روایت کے بارے میں تحریر کیا ہے کہ اس کو احمد نے روایت کیا ہے، اور طبرانی نے زیادہ تفصیل سے بیان کیا ہے ۔ اس کی اسناد میں ابن لہیعہ ہے ، اور اس میں [ضعف] کے باوجود اس کی حدیث [حسن] ہے ، اور باقی روایت کرنے والے ثقہ ہیں ۔ (ملاحظہ ہو : مجمع الزوائد ۵/۲)۔ [2] ملاحظہ ہو : سیر أعلام النبلاء ۸/۹۳۔