کتاب: نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے میں خواتین کی ذمہ داری - صفحہ 245
نہیں فرماتا،[بلکہ بندوں کو]ایک دوسرے کے ذریعے سے رزق عطا فرماتا ہے۔جس کو کچھ دیا جائے اس کوچاہیے کہ وہ اس کو قبول کر لے۔[پھر]اگر وہ[خود]غنی ہو تو کسی محتاج کو[وہ مال]دے دے۔اور اگر خود ضرورت مند ہو تو اپنے استعمال میں لے آئے۔‘‘ قصے پر تعلیق: حضرت ام الدرداء رحمہ اللہ کی اس بات کی تایید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نصیحت سے ہوتی ہے جو کہ آپ نے عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو فرمائی،اور انہوں نے وہی بات عبداللہ بن سعدی رحمہ اللہ کو سمجھائی۔امام بخاری رحمہ اللہ نے عبداللہ بن سعدی رحمہ اللہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ((أَنَّہُ قَدِمَ عَلَی عُمَرَ رضی اللّٰه عنہ فِيْ خِلاَفَتِہِ،فَقَالَ لَہُ عُمَرُ رضی اللّٰه عنہ:’’أَلَمْ أُحَدَّثْ أَنَّکَ تَلِيْ مِنْ أَعْمَالِ النَّاسِ أَعْمَالاً،فَإِذَا أُعْطِیْتَ الْعُمَالَۃ کَرِہْتَہَا؟‘‘ فَقُلْتُ:’’بَلَی۔‘‘ قُلْتُ:’’إِنَّ لِيْ أَفْرَاسًا وَأَعْبُدًا وَأَنَا بِخَیْرٍ،وَأُرِیْدُ أَنْ تَکُوْنَ عُمَالِتِيْ صَدَقَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ۔‘‘ قَالَ عُمَرَ رضی اللّٰه عنہ:’’لاَ تَفْعَلْ،فَإِنِّيْ کُنْتُ أَرَدْتُ الَّذِيْ أَرَدْتَ،فَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صلی اللّٰه علیہ وسلم یُعْطِیْنِي الْعَطَائَ فَأَقُوْل:’’أَعْطِہِ أَفْقَرَمِنِيْ۔‘‘ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم:’’خُذْہُ فَتَمَوَّلْہُ،وَتَصَدَّقْ بِہِ،فَمَا جَائَکَ مِنْ ہٰذَا الْمَالِ،وَأَنْتَ غَیْرُ مُشْرِفٍ وَلاَ سَائِلٍ،فَخُذْہُ،وَإِلاَّ فَلاَ تُتْبِعْہُ نَفْسَکَ۔‘‘))[1] [1] صحیح البخاري ، کتاب الأحکام ، باب رزق الحاکم والعاملین علیہا ، رقم الحدیث ۷۱۶۳ ، ۱۳ / ۱۵۰۔