کتاب: نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے میں خواتین کی ذمہ داری - صفحہ 232
میں کچھ حرج نہیں۔ام المومنین رضی اللہ عنہا نے ان کی رائے کی تردید کی،اور آیت کریمہ کا صحیح معنی بیان فرمایا۔ دلیل: امام مسلم رحمہ اللہ نے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ: ((قُلْتُ لِعَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلی اللّٰه علیہ وسلم:’’مَا أَرَی عَلَی أَحَدٍ لَمْ یَطُفْ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ شَیْئًا،وَمَا أُبَالِيْ أَنْ لاَ أَطُوْفَ بَیْنَہُمَا۔‘‘ قَالَتْ:’’بِئْسَ مَا قُلْتَ یَا ابْنَ أُخْتِيْ ! طَافَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صلی اللّٰه علیہ وسلم،وَطَافَ الْمُسْلِمُوْنَ فَکَانَتْ سُنَّۃً۔‘‘ وَإِنَّمَا کَانَ مَنْ أَہَلَّ لَمَنَاۃٍ الطَّاغِیَۃِ الَّتِيْ بِالْمُشَلَّلِ لاَ یَطُوْفُوْنَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ۔فَلَمَّا کَانَ الْإِسْلاَمُ سَأَلْنَا النَّبِيَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم عَنْ ذٰلِکَ،فَأَنْزَلَ اللّٰهُ عَزَّوَجَلَّ:{إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ أَنْ یَّطَّوَّفَ بِہِمَا}۔ وَلَوْ کَانَتْ کَمَا تَقُوْلُ لَکَانَتْ:’’فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْہِ أَنْ لاَّ یَطَّوَّفَ بِہِمَا۔‘‘ قَالَ الزُّہْرِيَّ(أَحَدُ رَوَاۃِ الْحَدِیْثِ):فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِأَبِيْ بَکْرٍ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ ہِشَامٍ فَأَعْجَبَہُ ذٰلِکَ،وَقَالَ:’’إِنَّ ہٰذَا الْعِلْمُ۔‘‘))[1] ’’میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا:’’میں(حج وعمرے کے [1] صحیح مسلم ، کتاب الحج ، باب بیان أنَّ السعي بین الصفا والمروۃ رکن لا یصحّ الحج إلاّ بہ ، رقم الحدیث ۲۶۱ (۱۲۷۷) ، ۲/۹۲۹۔ امام بخاری ؒ نے بھی اسی معنی کی روایت نقل کی ہے ۔ (ملاحظہ ہو: صحیح البخاري ، کتاب الحج ، باب وجوب الصفا والمروۃ ، وجعل من شعائر اللّٰه ، رقم الحدیث ۱۶۴۳ ، ۳/۴۹۷ - ۴۹۸)۔