کتاب: نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے میں خواتین کی ذمہ داری - صفحہ 230
عِنْدَ الْإِحْرَامِ۔‘‘ قَالَ:’’فَدَعَوْتُ رَجُلاً وَأَنَا جَالِسٌ بِجَنْبِ ابْنِ عُمَرَ رضی اللّٰه عنہما،فَأَرْسَلْتُہُ إِلَیْہَا،وَقَدْ عَلِمْتُ قَوْلَہَا،وَلٰکِنْ أَحْبَبْتُ أَنْ یَسْمَعَہُ أَبِيْ۔‘‘ فَجَائَ نِيْ رَسُوْلِيْ،فَقَالَ:’’إِنَّ عَائِشَۃَ رضی اللّٰه عنہا تَقُوْلُ:’’لاَ بَأْسَ بِالطِّیْبِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ،فَأَصِبْ مَا بَدَا لَکَ۔‘‘ قَالَ:’’فَسَکَتَ ابْنُ عُمَرَ رضی اللّٰه عنہما۔‘‘))[1] یقینا عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں:’’احرام کے وقت خوشبو استعمال کرنے [2] میں کچھ مضائقہ نہیں۔‘‘ انہوں نے بیان کیا کہ:’’میں نے ایک شخص کو بلایا،اور تب میں اپنے باپ کے پہلو میں بیٹھا تھا،میں نے اس[شخص]کو ان[عائشہ رضی اللہ عنہا]کی خدمت میں بھیجا،اور مجھے[پہلے سے]ان کی رائے کا علم تھا،لیکن میں نے چاہا کہ میرے والد بھی اس کو سن لیں۔ میرے قاصد نے واپس آ کر کہا:’’یقینا عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ہے:’’احرام کے وقت خوش بو استعمال کرنے میں کچھ حرج نہیں،جو خوش بو چاہو استعمال کرو۔‘‘ انہوں نے بیان کیا:’’اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہما خاموش رہے‘‘۔ اللہ تعالیٰ خوش نصیب ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بلند نصیب صاحبزادے پر اپنی ان گنت نوازشات فرمائے کہ انہوں نے اپنے والد کی خلافِ سنت رائے کی اصلاح کے لیے کس قدر دانش مندانہ اور باادب طریقہ اختیار کیا۔اے ہمارے حي وقیوم رب ! ہماری اولادوں کو بھی ایسے ہی بنا دے۔آمین [1] منقول از : فتح الباري ۳/۳۹۸ ؛ نیز ملاحظہ ہو : المحلّی ، مسألۃ ۸۲۵ ، ۷/۹۰-۹۱۔ [2] مراد یہ ہے کہ حالت احرام میں داخل ہونے سے پہلے ۔