کتاب: نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے میں خواتین کی ذمہ داری - صفحہ 229
رَسُوْلَ اللّٰهِ صلی اللّٰه علیہ وسلم فَیَطُوْفُ عَلَی نِسَائِہِ،ثُمَّ یُصْبِحُ مُحْرِمًا یَنْضَخُ طِیْبًا۔‘‘))[1] انہوں نے فرمایا:’’اللہ تعالیٰ ابو عبدالرحمن پر رحم فرمائے ! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش بو لگایا کرتی تھی،پھر آپ اپنی ازواج کے ہاں چکر لگاتے،پھر آپ احرام میں داخل ہوتے،اور تب خوش بو آ رہی ہوتی تھی۔‘‘ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس حدیث کی شرح میں تحریر کیا ہے: ((وَفِیْہِ إِنْکَارُ عَائِشَۃَ عَلَیْہِ - أَي عَلَی ابْنِ عُمَرَ(رضی اللّٰه عنہما)))[2] ’’اس میں عائشہ رضی اللہ عنہاکا ان…ابن عمر رضی اللہ عنہما … پر نقد ہے۔‘‘ قصے سے مستفاد باتیں: 1 ام المومنین عائشہ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے احتساب میں نرمی اور شفقت کا رویہ اختیار فرمایا۔احتساب کی ابتدا ان کے لیے دعا کے ساتھ کی،اور ان کا تذکرہ ان کے نام کی بجائے کنیت سے کیا۔ 2 انہوں نے اپنے احتساب کی تایید سنت خیر الانام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کی۔اور آپ کی سنت کے مقابلے میں کسی کی پسند یا ناپسند کی قطعی طور پر کوئی حیثیت نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی لاتعداد رحمتیں ہوں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پر بھی،کہ جب ان کے سامنے سنت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ذکر کی گئی،تو انہوں نے اس کی تردید یا تاویل میں ایک حرف تک بولنے کی جرات نہ کی۔ امام سعید بن منصور رحمہ اللہ نے عبداللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے کہ: ((أَنَّ عَائِشۃَ رضی اللّٰه عنہاکَانَتْ تَقُوْلُ:’’لاَ بَأْسَ بِأَنْ یَمَسَّ الطِّیْبَ [1] صحیح البخاري ، کتاب الغسل ، باب إذا جامع ثم عاد ومن دار علی نسائہ في غسل واحد ، رقم الحدیث ۲۶۷ ، ۱/۳۷۶۔ [2] فتح الباري ۳/۳۹۷۔