کتاب: نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے میں خواتین کی ذمہ داری - صفحہ 227
دقت نظر نمایاں ہے۔ 2 حضرت ابن عمر کے احتساب میں ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہانے نرمی اختیار کی۔اس کا اظہار درج ذیل تین باتوں سے ہوتا ہے۔ ا: انہوں نے احتساب کی ابتدا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے لیے دعا سے کی۔ ب: انہوں نے نام کی بجائے ان کی کنیت[ابو عبدالرحمن]کے ساتھ ان کا تذکرہ کیا۔ ج: غلطی کی نشاندہی کے لیے انتہائی نرم اسلوب اختیار کرتے ہوئے کہا کہ[ان سے سہو ہو گیا ہے] 3 ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے غلطی کو غلط قرار دینے پر اکتفا نہ کیا،بلکہ صحیح روایت بھی بیان فرما دی۔رَضِيَ اللّٰهُ عَنْہَا وَأَرْضَاہَا۔ ٭٭٭ (۱۰)احرام سے پہلے خوشبو کو ناپسند کرنے پر عائشہ رضی اللہ عنہا کا احتساب حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما احرام میں داخل ہونے سے پہلے خوشبو کے استعمال کو ناپسند کرتے تھے۔ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس بات کی خبر ہوئی،تو انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی روشنی سے ان کے موقف کی تردید فرمائی۔ دلیل: امام مسلم رحمہ اللہ نے محمد بن منتشر رحمہ اللہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ: ((سَأَلْتُ عَبْدَ اللّٰهِ بْنَ عُمَرَ رضی اللّٰه عنہما عَنِ الرَّجُلِ یَتَطَیَّبُ ثُمَّ یُصْبِحُ مُحْرِمًا۔ فَقَالَ:’’مَا أُحِبُّ أَنْ أُصْبِحَ مُحْرِمًا أَنْضَخُ طِیْبًا۔لَأَنْ أَطْلِيَ بِقَطِرَانٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَفْعَلَ ذٰلِکَ۔‘‘ فَدَخَلْتُ عَلَی عَائِشَۃَ رضی اللّٰه عنہا فَأَخْبَرْتُہَا أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رضی اللّٰه عنہما قَالَ:’’مَا أُحِبُّ أَنْ أُصْبِحَ مُحْرِمًا أَنْضَخُ طِیْبًا۔لَأَنْ أَطْلِيَ