کتاب: نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے میں خواتین کی ذمہ داری - صفحہ 221
انہوں نے فرمایا:’’وہ ادا نہیں کریں گی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عورتوں میں سے ایک عورت [1]چالیس دنوں تک نفاس کی وجہ سے بیٹھتی تھی۔[لیکن]نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کو ایام نفاس کی[چھوڑی ہوئی]نمازوں کو قضا کا حکم نہ دیتے۔‘‘ قصے سے مستفاد باتیں: 1 اصلاح واحتساب کی غرض سے اہل علم کے روبرو کسی کے غلط فتویٰ کا ذکر غیبت کے دائرے میں داخل نہیں۔ 2 حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ شرفِ صحبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہرہ ور ہونے کے باوجود،اپنے فتویٰ میں معصوم نہ تھے۔ 3 ام المومنین رضی اللہ عنہا نے اپنے احتساب کی تایید میں سنت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کیا۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نفاس کے چالیس دنوں کی چھوڑی ہوئی نمازوں کی قضا کا حکم نہیں دیا،تو حیض کے چھ یا سات دنوں کی چھوڑی ہوئی نمازوں کی قضا کا حکم تو بطریق اولیٰ نہ دیا جائے گا۔ ٭٭٭ (۸)فجر پانے والے جنبی کے روزہ نہ رکھنے کے فتویٰ پر عائشہ رضی اللہ عنہا کا احتساب حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ کو بتلایا گیا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا ہے کہ:حالت ِ جنابت میں فجر پانے والا شخص روزہ نہ رکھے۔ان دونوں نے اس فتویٰ کی سنت [1] اس سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ نہیں ، بلکہ آپ کے قرابت داروں میں سے کوئی عورت ، یا حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کسی کی بیوی ہے ۔ (ملاحظہ ہو : بذل المجہود ۲/۳۹۰)۔