کتاب: نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے میں خواتین کی ذمہ داری - صفحہ 208
مبحث دوئم خواتین کا علماء اور طلبہ کا احتساب تمہید: قرون اولیٰ کی مسلمان خواتین نے نہ صرف عامۃ الناس کا احتساب کیا،بلکہ انہوں نے اہل علم اور طلبہ کا بھی احتساب کیا۔غلطی سرزد ہونے کی صورت میں کسی کا علم وفضل ان کے احتساب کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکا۔حدیث،تراجم اور تاریخ کی کتابوں میں اس بارے میں متعدد شواہد موجود ہیں۔توفیق الٰہی سے اس مقام پر بیس شواہد پیش کیے جا رہے ہیں۔ ٭٭٭ (۱)رؤیت باری تعالیٰ کے متعلق سوال پر عائشہ رضی اللہ عنہاکا احتساب مسروق رحمہ اللہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کے بارے میں سوال کیا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سوال پر اظہار استغراب کیا،اور مسروق رحمہ اللہ کا احتساب کیا۔ دلیل: امام احمد رحمہ اللہ نے عامر رحمہ اللہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ((أَتَی مَسْرُوْقٌ فَقَالَ:’’یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ ! ہَلْ رَأَی مُحَمَّدٌ صلی اللّٰه علیہ وسلم رَبَّہُ؟‘‘ قَالَتْ:’’سُبْحَانَ اللّٰهِ ! لَقَدْ قَفَّ شَعْرِيْ لِمَا قُلْتَ۔أَیْنَ أَنْتَ