کتاب: نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے میں خواتین کی ذمہ داری - صفحہ 206
(۲۰)حفصہ رضی اللہ عنہا کا جوانوں کو زمانہ شباب سے فائدہ اٹھانے کا حکم دلیل: امام ابن جوزی رحمہ اللہ نے ہشام بن حسان رحمہ اللہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ حفصہ رضی اللہ عنہا [1]ہمیں کہا کرتی تھیں: ((یَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ ! خُذُوْا مِنْ أُنْفَسِکُمْ وَأَنْتُمْ شَبَابٌ،فَإِنِّيْ مَا رَأَیْتُ الْعَمَلَ إِلاَّ فِي الشَّبَابِ۔))[2] ’’اے جوانو ! زمانہ ئِ جوانی میں اپنی جانوں سے فائدہ حاصل کرو۔میں نے جوانی کے عمل ایسا[بہترین]عمل کسی اورزمانے میں نہیں دیکھا۔‘‘ قصے سے تعلیق: اطاعت وعبادت تو زندگی کے ہر مرحلے میں بھلی،اور اچھی ہے۔لیکن زمانہ ئِ شباب کی نیکی،فرمانبرداری،اور بندگی کے کیا کہنے ! یقینا یہ تو آنکھوں کو ٹھنڈا،اور دلوں کو باغ باغ کر دیتی ہے۔اس کی شان وعظمت پر وہ حدیث بھی دلالت کناں ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات اشخاص کا ذکر فرمایا،جنہیں روز محشر،جب کہ کوئی سایہ نہ ہو گا،اللہ تعالیٰ اپنے سایے میں جگہ عطا فرمائے گا۔انہی سات میں سے ایک شخص کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [1] (حفصہ بنت سیرین) : حافظ ذہبی ؒ نے ان کے متعلق تحریر کیا ہے : ام ہذیل ، فقیہہ اور انصاریہ ہیں ، انہوں نے ام عطیہ اور ام الرائح رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے ۔ (ملاحظہ ہو : سیر أعلام النبلاء ۴/۵۰۷)۔ [2] صفۃ الصفوۃ ۴/۵۰۷۔