کتاب: نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے میں خواتین کی ذمہ داری - صفحہ 204
انہوں نے فرمایا:’’مہندی لگانے میں کچھ حرج نہیں،لیکن میں اس کو ناپسند کرتی ہوں،کیونکہ میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بو کو ناپسند کرتے تھے۔‘‘ قصے سے مستفاد باتیں: 1 عورتوں کو سمجھانے کے متعلق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکا اہتمام۔ 2 رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناپسندیدہ چیز کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ناپسند کرنا۔ ٭٭٭ (۱۹)عائشہ رضی اللہ عنہا کا نشہ کے سبب بننے والے برتنوں سے روکنا ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عورتوں نے مختلف قسم کے برتنوں میں نبیذ بنانے کے متعلق پوچھا،تو انہوں نے ہر اس برتن سے منع فرمایا جو مشروب میں نشہ پیدا کرنے کا سبب بنے۔ دلیل: امام حاکم رحمہ اللہ نے مریم بنت طارق رحمہ اللہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ: ((کُنْتُ فِيْ نِسْوۃٍ مِنَ النِّسَائِ الْمُہَاجِرَاتِ حَجَجْنَا،فَدَخَلْنَا عَلَی عَائِشَۃَ أمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ رضی اللّٰه عنہا،قَالَتْ:’’فَجَعَلَ النِّسَائُ یَسْأَلْنَہَا عَنِ الظُّرُوْفِ‘‘،فَقَالَتْ:’’یَا مَعْشَرَ النِّسَائِ! إِتَّکُنَّ لَتَذْکُرْنَ ظُرُوْفًا مَا کَانَ کَثِیْرٌ مِنْہَا عَلَی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صلی اللّٰه علیہ وسلم،فَاتَّقِیْنَ اللّٰه،وَاجْتَنِبْنَ مَا یُسْکِرُکُنَّ،فَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صلی اللّٰه علیہ وسلم قَالَ:’’کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٍ۔))[1] [1] المستدرک علی الصحیحین ، کتاب الأشربۃ ، کل مسکر حرام ، ۴/۱۴۸ ۔ امام حاکم ؒنے اس حدیث کو [صحیح الإسناد] قرار دیا ہے ۔ (ملاحظہ ہو : المرجع السابق ۴/۱۴۸) ؛ اور حافظ ذہبی ؒ نے ان کی تایید کی ہے ۔ (ملاحظہ ہو : التلخیص ۴/۱۴۸)۔