کتاب: نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے میں خواتین کی ذمہ داری - صفحہ 184
اور یہ اساس انتہائی قوی،مضبوط اور ٹھوس ہے۔ ٭٭٭ (۹)صحابہ کو گالی دینے پر عائشہ رضی اللہ عنہاکا احتساب کچھ لوگوں نے حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کو گالی دی۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کا احتساب کرتے ہوئے،اس حرکت کی سنگینی اور قباحت کو بیان فرمایا۔ دلیل: امام مسلم رحمہ اللہ نے عروہ رحمہ اللہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے کہا: ((یَا ابْنَ أُخْتِيْ ! أُمِرُوْا أَنْ یَسْتَغْفِرُوْا لِأَصْحَابِ النَّبِيِّ صلی اللّٰه علیہ وسلم،فَسَبُّوْہُمْ۔‘‘))[1] ’’اے میرے بھانجے ! انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کے لیے دعائے مغفرت کا حکم دیا گیا،[لیکن]انہوں نے انہیں گالی دی۔‘‘ قاضی عیاض رحمہ اللہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکے اس فرمان کے پس منظر کے بارے میں تحریر کیا ہے: ((اَلظَّاہِرُ أَنَّہَا قَالَتْ ہٰذَا عِنْدَ مَا سَمِعَتْ أَہْلَ مِصْرَ یَقُوْلُوْنَ فِي عُثْمَانَ رضی اللّٰه عنہ مَا قَالُوْا،وَأَہْلَ الشَّامِ فِي عَلِيٍّ رضی اللّٰه عنہ مَا قَالُوْا،وَالْحُرُوْرِیَّۃَ فِی الْجَمِیْعِ مَا قَالُوْہُ۔))[2] ’’معلوم ہوتا ہے کہ اہل مصر کی عثمان رضی اللہ عنہ،اہل شام کی علی رضی اللہ عنہ اورخوارج [1] صحیح مسلم ، کتاب التفسیر ، رقم الحدیث ۱۵ (۳۰۲۲) ، ۴/۲۳۱۷۔ [2] منقول از شرح النووي ۱۸/۱۵۸۔