کتاب: نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے میں خواتین کی ذمہ داری - صفحہ 176
عید گاہ جائیں]؟‘‘ اس پر انہوں[ام عطیہ رضی اللہ عنہا]نے کہا:’’کیا وہ عرفات اور فلاں فلاں جگہ نہیں جاتیں ؟‘‘ قصے سے مستفاد باتیں: 1 عورتوں کے عید گاہ جانے،اور آتے جاتے ان کا پردے کا اہتمام کرنا،ان دونوں باتوں کی اہمیت اس قصے میں واضح ہے۔ 2 کسی بستی یا شہر میں رائج دستور وعادت کی سنت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے ٹکرائو کی صورت میں قطعاً کوئی حیثیت نہیں،اسی لیے مسلمان عورت نے بصرہ میں[جوان عورتوں کو عیدگاہ جانے سے منع کرنے کی روش پر]نقد کیا۔ 3 مسلمان عورت نے اپنے احتساب کی تایید میں حدیث مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کیا۔احتساب کی اصل قوت وطاقت تو قرآن وسنت یا ان دونوں میں سے ایک کی تایید ہی سے ہے۔ 4 حفص رضی اللہ عنہا نے مسلمان عورت کی بیان کردہ حدیث کی توثیق کے لیے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے اس کے متعلق سوال کیا۔ 5 حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کس قدر احترام کرتی تھیں۔جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتیں،تو ساتھ ہی کہتیں[میرے باپ(آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر)قربان ہو جائیں]اے ہمارے اللہ ! ہمیں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح معنوں میں عزت وتکریم کرنے کی توفیق نصیب فرما۔إِنَّکَ سَمِیْعٌ مُّجِیْبٌ۔ ٭٭٭