کتاب: نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے میں خواتین کی ذمہ داری - صفحہ 169
کو پسند نہیں کرتا۔‘‘) اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو اس بات کا پابند نہیں کیا کہ وہ آدھی رات کو اٹھیں،اور دیکھیں کہ آیا وہ حیض سے پاک ہو چکی ہیں یا نہیں۔ علامہ عینی رحمہ اللہ نے ان کے نقد کا سبب بیان کرتے ہوئے تحریر کیا ہے: ((وَإِنَّمَا عَابَتْ عَلَیْہِنَّ لِأَنَّ ذٰلِکَ یَقْتَضِي الْحَرَجَ،وَہُوَ مَذْمُوْمٌ،وَکَیْفَ لاَ،وَجَوْفُ اللَّیْلِ لَیْسَ إِلاَّ وَقْتُ الْاِسْتِرَاحَۃِ۔))[1] ’’انہوں نے عورتوں پر اس لیے نقد فرمایا کیونکہ ان کے طرز عمل میں مشقت تھی اور(دین میں بے جا)مشقت قابل مذمت ہے،اور ایسے کیوں نہ ہو،جب کہ آدھی رات کا وقت آرام کے لیے ہے(طہر کی جانچ پڑتال کے لیے نہیں)۔‘‘ 2 دینی امور کی سر انجام دہی میں بے جا مشقت قابل تعریف نہیں،بلکہ قابل نقد واحتساب ہے۔قابل تعریف طرز عمل تو حدود شریعت میں رہتے ہوئے دینی کاموں کو سر انجام دینا ہے۔ 3 حضرت زید رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی نے اپنے احتساب کی تایید میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک کی عورتوں کے طرز عمل کو پیش کیا،کہ اگر نصف رات کو اٹھ کر طہر کی جان پڑتال کرنا ضروری ہوتا،تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بابرکت زمانے کی عورتیں ایسے ضرور کرتیں۔ ٭٭٭ [1] عمدۃ القاري ۳/ ۲۹۸ ؛ نیز ملاحظہ ہو : فتح الباري ۱/۴۲۱۔