کتاب: نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے میں خواتین کی ذمہ داری - صفحہ 167
ابْنِہَا،وَأَرْضَاہَا۔امت اسلامیہ کو آج ام سعد رضی اللہ عنہا ایسی مائوں کی کس قدر شدید ضرورت ہے جو اپنے بیٹوں کو ان ایسی تلقین کریں۔{وَمَا ذٰلِکَ عَلَی اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ} [1] ٭٭٭ مطلب دوئم خواتین کا عام لوگوں،اقربا اور معارف میں سے جماعتوں کا احتساب تمہید: قرون اولیٰ کی مسلمان عورتوں نے نہ صرف عام لوگوں،قرابت داروں اور شناسا لوگوں میں سے افراد کا احتساب کیا،بلکہ انہوں نے تب بھی فریضہ ئِ احتساب ادا کیا جب کہ غلطی کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہوتی تھی۔یہاں توفیق الٰہی سے اس بارے میں بیس شواہد مختلف عنوانوں کے ضمن میں پیش کیے جا رہے ہیں۔ ٭٭٭ (۱)آدھی رات کو طہر دیکھنے کے لیے طلب ِ چراغ پر بنت زید رضی اللہ عنہا کا نقد حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی [2]کو خبر ملی کہ کچھ عورتیں اپنے طہر کی جان پڑتال کے لیے رات کو چراغ طلب کرتی ہیں،اس پر انہوں نے نقد فرمایا۔ [1] ترجمہ : اور اللہ تعالیٰ کے لیے ایسا کرنا کچھ دشوار نہیں ۔ [2] علامہ عینی ؒ نے تحریر کیا ہے کہ حضرت زید رضی اللہ عنہ کی یہ صاحبزادی شاید ام سعد ہوں جن کا ذکر ابن عبدالبر ؒ نے صحابیات میں کیا ہے۔ (ملاحظہ ہو : عمدۃ القاري ۳/۲۹۸ ؛ نیز ملاحظہ ہو : الاستیعاب في معرفۃ الأصحاب ، رقم الترجمۃ ۴۱۵۶ ، ۴/۱۹۳۸)۔