کتاب: نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے میں خواتین کی ذمہ داری - صفحہ 159
(۳۹)اسماء رضی اللہ عنہا کا بیٹے کو موت کے ڈر سے غلط شرائط ماننے سے روکنا جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں تھے تو حجاج بن یوسف ثقفی نے مکہ مکرمہ کا محاصرہ کیا۔وہ اپنی والدہ محترمہ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے،تو انہوں نے اپنے بیٹے کو موت کے ڈر سے نامناسب شرائط تسلیم کرنے سے منع کر دیا۔ دلیل: حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے عروہ رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا: ((دَخَلْتُ أَنَا وَأَخِيْ(عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ الزُبَیْرِ)،قَبْلَ أَنْ یُقْتَلَ،عَلَی أُمِّنَا بِعَشْرِ لَیَالٍ،وَہِيَ وَجِعَۃٌ،فَقَالَ عَبْدُ اللّٰهِ:’’کَیْفَ تَجِدُنِیْکِ؟‘‘ قَالَتْ:’’وَجِعَۃٌ۔‘‘ قَالَ:’’إِنَّ فِي الْمَوْتِ لَعَافِیَۃً۔‘‘ قَالَتْ:’’لَعَلَّکَ تَشْتَہِيْ مَوْتِيْ ؛ فَلاَ تَفْعَلْ۔‘‘ وَضَحِکَتْ وَقَالَتْ:’’وَاللّٰهِ ! مَا أَشْتَہِيْ أَنْ أَمُوْتَ،حَتَّی تَأْتِيَ عَلٰی أَحَدِ طَرَفِیْکِ:إِمَّا أَنْ تُقْتَلَ فَأَحْتَسِبُکَ ؛ وَإِمَّا أَنْ تَظْفَرَ فَتَقِرَّ عَیْنِيْ،إِیَّاکَ أَنْ تُعْرَضَ عَلٰی خِطَّۃٍ فَلاَ تُوَافِق،فَتَقْبَلَہَا کَرَاہِیَۃَ الْمَوْتِ۔‘‘))[1] ’’میں اور میرا بھائی(عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ)قتل ہونے سے دس دن پہلے اپنی والدہ کے پاس حاضر ہوئے،اور وہ اس وقت تکلیف میں تھیں۔ [1] سیر أعلام النبلاء ۲/۲۹۳۔