کتاب: نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے میں خواتین کی ذمہ داری - صفحہ 138
شخص نے اس کو دروازہ کھولنے کے لیے کہا۔اس عورت نے مدد کے لیے فریاد کی،لیکن کوئی اس کی مدد کو نہ پہنچا،اور تب سردی کا موسم تھا،اس نے[مجبوراً]دروازہ کھول دیا،اور چکی کا پاٹ مار کر اس کا کام تمام کر دیا۔ انہوں[ضحاک رضی اللہ عنہ]نے[تحقیق کی خاطر]ایک شخص کو اس[عورت]کے ساتھ روانہ کیا،تو وہاں چوروں میں سے ایک چور[مرا پڑا]تھا۔اور اس کے ساتھ[چرایا ہوا]سامان تھا۔ انہوں نے اس کے خون کو باطل قرار دیا[یعنی عورت سے قصاص نہ لیا گیا]۔‘‘ علاوہ ازیں متعدد علمائے امت نے بھی اس بات کو صراحت سے بیان کیا ہے۔مثال کے طور پر امام احمد رحمہ اللہ نے ایسی عورت کے متعلق فرمایا: ((إِذَا عَلِمَتْ أَنَّہُ لاَ یُرِیْدُ إِلاَّ نَفْسَہَا،فَقَتَلَتْہُ لِتَدْفَعَ عَنْ نَفْسِہَا فَلاَ شَيْئَ عَلَیْہَا۔))[1] ’’جب عورت کو معلوم ہو جائے کہ وہ اس سے برائی کا ارادہ رکھتا ہے،اور وہ اپنی عزت کوبچانے کی غرض سے اس[مرد]کو قتل کر دے،تو اس پر کچھ[گناہ یا قصاص]بھی نہیں۔‘‘ امام بغوی رحمہ اللہ نے فرمایا: ((لَوْ قَصَدَ رَجُلٌ الْفُجُوْرَ بِامْرَأَۃٍ،فَدَفَعَتْہُ عَنْ نَفْسِہَا،فَقَتَلَتْہُ لاَ شَيْئَ عَلَیْہَا۔))[2] ’’اگر کوئی مرد کسی عورت سے برائی کا قصد کرے،اور وہ[عورت]اس کو دھکا دے،اور قتل کر دے،تو اس پر کچھ[گناہ یا قصاص]نہیں۔‘‘ صرف یہی بات نہیں،بلکہ عزت وناموس کی حفاظت کی خاطر برائی کا ارادہ کرنے [1] المغني ۱۲/۵۳۳۔ [2] شرح السنۃ ۱۰/۲۵۲۔