کتاب: نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے میں خواتین کی ذمہ داری - صفحہ 127
’’معاذہ عدویہ رحمہ اللہ نے ام اسود کو دودھ پلایا تھا۔ام اسود رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ معاذہ عدویہ نے ان سے فرمایا:’’حرام کھا کر میرے دودھ کو خراب نہ کرنا،میں نے تمہاری مدت رضاعت کے دوران انتہائی جدوجہد کر کے حلال کھایا۔خوب کوشش کرنا تاکہ صرف حلال ہی کھائو،شاید کہ اس طرح تمہیں اپنے مالک کی بندگی اور اس کے فیصلے پر راضی ہونے کی سعادت میسر آ جائے۔‘‘ قصے سے مستفاد باتیں: 1 معاذہ عدویہ رحمہ اللہ نے ام اسوؒد کو نصیحت کرتے وقت اس سے اپنے سابقہ تعلق کا ذکر کر کے غالباً اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ ان کی اس بات کے پس منظر میں ام اسود کی خیر خواہی کے سوا اور کوئی مقصد نہیں۔ 2 معاذہ رحمہ اللہ کی نصیحت کس قدر قیمتی اور اہم ہے ! انہوں نے اکل حلال اور نیک اعمال کے باہمی گہرے تعلق اور شدید ربط کو واضح کیا۔اللہ رب العالمین کے درج ذیل ارشاد گرامی میں بھی اسی حقیقت کی طرف راہ نمائی کی گئی ہے: {یٰٓأَیُّہَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صٰلِحًا إِنِّيْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ} [1] (ترجمہ:’’اے رسولو ! پاک چیزوں سے کھائو،اور نیک عمل کرو،اور یقینا میں تمہارے اعمال کو جاننے والا ہوں۔‘‘) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے نیک اعمال کرنے کے حکم سے پہلے پاک چیزیں کھانے کا حکم دیا۔اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے علامہ فخر الدین رازی رحمہ اللہ نے تحریر کیا ہے: ((وَتَقْدِیْمُ قَوْلِہِ تَعَالَی {کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبَاتِ} عَلَی قَوْلِہِ {وَاعَمَلُوْا صَالِحًا} کَالدَّلاَلَۃِ عَلَی أَنَّ الْعَمَلَ الصَّالِحَ لاَ بُدَّ وَأَنَّ یَکُوْنَ مَسْبُوْقًا بِأَکْلِ الْحَلاَلِ۔))[2] [1] سورۃ المومنون / الآیۃ ۵۱۔ [2] التفسیر الکبیر ۲۳/۱۰۴۔