کتاب: نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے میں خواتین کی ذمہ داری - صفحہ 105
قصے پر تعلیق: اس بات کے کہنے والی خاتون کس قدر شان وعظمت والی ہے ! ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے لیے دعا کی ہے جو کہ رات کو اٹھ کر عبادت کرتی ہے،اور اپنے شوہر کو بھی اسی غرض سے بیدار کرنے کی کوشش کرتی ہے۔حضرت ائمہ احمد،ابوداود،نسائی،ابن ماجہ اور حاکم رحمہ اللہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((رَحِمَ اللّٰهُ رَجُلاً قَامَ مِنَ اللَّیْلِ فَصَلَّی،وَأَیْقَظَ امْرَأَتَہُ،فَإِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِيْ وَجْہِہَا الْمَائَ،رَحِمَ اللّٰهُ امْرَأَۃَ قَامَتْ مِنَ اللَّیْلِ فَصَلَّتْ،وَأَیْقَظَتْ زَوْجَہَا،فَإِنْ أَبَی نَضَحَتْ فِيْ وَجْہِہِ الْمَائَ۔‘‘))[1] [اللہ تعالیٰ اس بندے پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھا اور نماز[تہجد]پڑھی،اور اپنی بیوی کو بیدار کیا اور اگر اس نے انکار کیا تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے۔اللہ تعالیٰ اس عورت پر رحم فرمائے جس نے رات کو اٹھ کر نماز[تہجد]پڑھی،اور اپنے خاوند کو بیدار کیا،اور اگر اس نے انکار کیا تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے۔‘‘] [1] المسند ۱۸ / ۱۸۴ ؛ وسنن أبي داود (المطبوع مع عون المعبود) ، أبواب قیام اللیل ، باب قیام اللیل ، ۴/۱۳۵ ، وسنن النسائي (المطبوع مع شرح السیوطي) ، کتاب قیام اللیل وتطوع النہار، باب الترغیب في قیام اللیل ، ۳/۲۵ ؛ وسنن ابن ماجۃ ، أبواب إقامۃ الصلوۃ والسنۃ فیہا ، باب ما جاء فیمن أیقظ أہلہ من اللیل ، رقم الحدیث ۱۳۳۰ ، ۱/۲۴۲ ؛ والمستدرک علی الصحیحین ، کتاب صلاۃ التطوع ، ۱/۳۰۹۔ امام حاکم رحمہ اللہ نے اس کو امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر [صحیح] قرار دیا ۔ (ملاحظہ ہو : المرجع السابق ۱/۳۰۹) ؛ اور حافظ ذہبی ؒ نے ان سے موافقت کی ہے۔ (ملاحظہ ہو : التلخیص ۱/۳۰۹) ؛ شیخ احمد شاکر ؒ نے بھی اس حدیث کی [اسناد کو صحیح] کہا ہے ۔ (ہامش المسند ۱۸ /۱۸۴) ؛ شیخ البانی ؒ نے اس حدیث کو [حسن صحیح] قرار دیا ہے ۔[ملاحظہ ہو : صحیح سنن أبي داود ۱/۲۴۳ ؛ وصحیح سنن النسائي ۱/۳۵۴ ؛ وصحیح سن ابن ماجہ ۱/۲۲۳]