کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے اسباب - صفحہ 7
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا ،جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے اہل ،مال اور تمام لوگوں سے زیادہ پیارا نہ ہو جاؤں۔‘‘ علاہ ازیںقرآن کریم میں ہر اس شخص کے لیے عذابِ الٰہی کی لپیٹ میں آنے کی وعید ہے ،جو اللہ تعالیٰ ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور جہاد کے مقابلے میں اپنے آباء ، بیٹوں ، بھائیوں، بیویوں ، قبیلوں ، جمع شدہ مالوں ، تجارت یا گھروں کے ساتھ زیادہ محبت رکھے۔ اللہ عزّوجلّ نے فرمایا: {قُلْ اِنْ کَانَ آبَآؤُکُمْ وَأَبْنَآؤُکُمْ وَإِخْوَانُکُمْ وَأَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ وَأَمْوَالُ نِ اقْتَرَفْتُمُوْہَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَہَا وَمَسَاکِنُ تَرْضَوْنَہَا أَحَبَّ إِلَیْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَجِہَادٍ فِيْ سَبِیْلِہٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَأْتِيَ اللّٰہُ بِأَمْرِہٖ وَاللّٰہُ لَا یَہْدِيْ الْقَوْمَ الْفَاسِقِیْنَ}[1] ’’کہہ دیجئے!اگر تمہارے باپ ، تمہارے بیٹے ، تمہارے بھائی ، تمہاری بیویاں، تمہارے کنبے ، تمہارے کمائے ہوئے مال ، تمہاری تجارت جس کے مندا پڑ جانے کا تمہیں اندیشہ رہتا ہے ، اور تمہاری پسندیدہ رہائش گاہیں تمہیں اللہ تعالیٰ ، ان کے رسول( صلی اللہ علیہ وسلم )اور ان کی راہ میں جہاد سے زیادہ عزیز ہیں، تو (اس بات کا )انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم لے آئیں ۔ اور اللہ تعالیٰ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتے۔‘‘ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت شریفہ کی تفسیر میں لکھا ہے، کہ : اگر یہ چیزیں تمہیں اللہ تعالیٰ ، ان کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی راہ میں [1] سورۃ التوبۃ / الآیۃ۲۴۔