کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت معلم - صفحہ 244
تَکْرِیْرِ السُّؤَالِ۔‘‘[1] ’’ایک ہی وقت میں مختلف مسائل کے متعلق استفسار کرنا ا ور سوال کے اعادہ کا جواز اس [حدیث ]سے ثابت ہوتا ہے۔‘‘ اس حدیث شریف سے یہ بات بھی واضح ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم راہ نمائی طلب کرنے والوں کی راہنمائی کرنے میں کسر اُٹھا نہ رکھتے تھے۔ ۲۔ ایک ہی مسئلہ کے متعلق چار استفسارات : امام بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا : ’’ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم :’’عَلیٰ کُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَۃٌ‘‘۔ قَالُوْا:’’ فَإِنْ لَمْ یَجِدْ‘‘۔ قَالَ:’’ فَیَعْمَلُ بِیَدَیْہِ فَیَنْفَعُ نَفْسَہٗ، وَیَتَصَدَّقُ‘‘۔ قَالُوْا:’’ فَإِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ، أَوْ لَمْ یَفْعَلُ‘‘۔ قَالَ:’’ فَیُعِیْنُ ذَالْحَاجَۃِ الْمَلْھُوفِ‘‘۔ قَالُوْا:’’ فَإِنْ لَمْ یَفْعَلْ‘‘۔ قَالَ:’’ فَلْیَأْمُرْ بِالْخَیْرِ‘‘، أَوْ قَالَ:’’ بِالْمَعْرُوْفِ‘‘۔ قَالُوْا:’’ فَإِنْ لَمْ یَفْعَلْ‘‘۔ قَالَ:’’ فَلْیُمْسِکْ عَنِ الشَّرِّ، فَإِنَّہُ لَہ صَدَقَۃٌ‘‘۔[2] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ہر مسلمان کے ذمہ صدقہ ہے۔‘‘
[1] عمدۃ القاري ۵/۱۴۔ [2] صحیح البخاري، کتاب الأدب، باب کل معروف صدقۃ، رقم الحدیث ۲۲، ۶، ۱۰/۴۴۷؛ وصحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، باب بیان أن اسم الصدقۃ یقع علی کل نوع من المعروف، رقم الحدیث ۵۵(۱۰۰۸)، ۲/۶۹۹۔ الفاظ حدیث صحیح البخاری کے ہیں۔