کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت معلم - صفحہ 240
عَلَیْھَا مِنَ السُّؤَالِ عَنْ دِیْنِھَا، فَلَمْ تَسْتَحِقِّ الْإِنْکَارَ، وَاْستَحْقَقْتِ أَنْتِ الْإِنْکَارَ لِإِنْکَارِکِ مَا لَا إِنْکَارَ فِیْہِ‘‘۔[1] ’’اس سے مراد یہ ہے کہ تم ان کلمات [تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو جائے]کی زیادہ سزا وار ہو،کیونکہ انہوں نے تو دین کی ایک ضروری بات کے متعلق استفسار کیا، اس لیے ان پر اعتراض درست نہیں، [البتہ]تم احتساب کی مستحق ہو کیونکہ تم نے ایک ایسی بات پر ملامت کی ہے،جو کہ قابلِ ملامت نہیں۔‘‘ ۳۔عورت کی دبر میں جماع کی ممانعت: حضرات ائمہ احمد بن حنبل، ابن ماجہ اور ابن حبان رحمہم اللہ تعالیٰ نے حضرت خزیمہ ابن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ’’ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم :’’ إِنَّ اللّٰہَ لَا یَسْتَحِي مِنَ الْحَقِّ۔ ‘‘ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ’’لَا تَأْ تُوْا النِّسَائَ فِي أَدْبَارِھِنَّ‘‘۔[2] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’بے شک اللہ تعالیٰ حق[بات بیان کرنے ]سے نہیں شرماتا۔‘‘ تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات بیان فرمائی ’’عورتوں کی دبر [پیٹھ]میں جماع نہ کرو۔‘‘ اس حدیث شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی پیٹھوں میں جماع کرنے
[1] شرح النووي ۳/۲۲۱۔ [2] المسند ۵/۲۱۴(ط:المکتب الاسلامي)؛ وسنن ابن ماجۃ، أبواب النکاح، النھي عن إتیان النساء في أدبارھن، رقم الحدیث ۱۹۳۱، ۱/۳۵۴؛ وَالإحسان في تقریب صحیح ابن حبان، کتاب النکاح، باب النھي عن إتیان النساء في أعجاز ھن، رقم الحدیث ۴۲۰۰، ۹/۵۱۴۔۵۱۵۔ الفاظ حدیث سنن ابن ماجہ کے ہیں۔ شیخ البانی نے اس حدیث کو [صحیح]قرار دیا ہے۔(ملاحظہ ہو:صحیح سنن ابن ماجہ ۱/۳۲۴ ؛ وصحیح موارد الظمآن إلی زوائد ابن حبان۱/۵۲۱)۔