کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت معلم - صفحہ 228
(23) قابلِ شرم باتوں کا کنایۃً ذکر کرنا ہمارے نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم سراپاحیا تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پردہ نشین دوشیزہ سے بھی زیادہ شرمیلے تھے۔ [1]بد زبانی اور بیہودہ گوئی نہ تو آپ کی عادت مبارکہ میں شامل تھی اور نہ ہی آپ ایسا تکلف سے کرنے والے تھے۔ [2]تعلیم و تربیت کے دوران اگر کسی قابلِ شرم بات کا ذکر کرنا ضروری ہوتا،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو رمز و کنایہ سے سمجھا دیتے۔ توفیق الٰہی سے سیرت طیبہ سے اس بارے میں تین مثالیں پیش کی جا رہی ہیں : ۱۔قصہ جریج رحمہ اللہ تعالیٰ میں کنایہ: امام بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نقل کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ لَمْ یَتَکَلَّمْ فِي الْمَھْدِ إِلاَّ ثَلَاثَۃٌ :عِیْسٰی علیہ السلام، وَکَانَ فِي بَنِيْ إِسْرَائِیْلَ رَجُلٌ، یُقَالُ لَہٗ جُرَیْجٌ، کَانَ یُصَلِّيْ، فَجَائَ تْہُ اُمُّہٗ، فَدَعَتْہُ، فَقَالَ:’’ أُجِیْبُھَا أَوْأُصَلِّيْ؟‘‘۔ فَقَالَتْ:’’اَللّٰھُمَّ لَا تُمِتْہُ حَتّٰی تُرِیَہٗ وُجُوْہَ الْمُوْمِسَاتِ‘‘۔ وَکَانَ جُرَیْجٌ فِيْ صَوْمَعَتِہٖ، فَتَعَرَّضَتْ لَہ اِمْرَأَۃٌ، وَکَلَّمَتْہُ، فَأَبَی، فَأَتَتْ رَاعِیًا، فَأَمْکَنَتْہُ مِنْ نَفْسِھَا، فَوَلَدَتْ غُلَامًا، فَقَالَتْ:’’ مِنْ جُرَیْجٌ‘‘۔ فَأَتَوْہُ، فَکَسَرُوْا صَوْمَعَتَہ، وَأَ نْزَلُوْہُ، وَسَبُّوہُ، فَتَوَضَّأَ وَصَلَّي،
[1] ملاحظہ ہو:صحیح البخاري،کتاب المناقب،باب صفۃ النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم، رقم الحدیث۳۵۶۲، ۶/۵۶۶۔ [2] ملاحظہ ہو:المرجع السابق،رقم الحدیث ۳۵۵۹،۶/۵۶۶۔