کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت معلم - صفحہ 220
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تشبیہ کو اُلٹ دیا ہے اور نہر کے میل کو دور کرنے کو پانچ نمازوں کے گناہوں کو دور کرنے سے تشبیہ دی ہے۔ ملا علی القاری رحمہ اللہ تعالیٰ رقم طراز ہیں : ’’ وَعَکَسَ فِي التَّشْبِیْہِ، حَیْثُ إِنَّ الْأَصْلَ تَشْبِیْہُ الْمَعْقُوْلِ بِالْمَحْسُوْسِ مُبَالَغۃً ‘‘۔[1] ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مبالغہ کی غرض سے تشبیہ کو اُلٹ دیا،کیونکہ تشبیہ کی اصل صورت یہ ہوتی ہے کہ معنوی چیز کو محسوس چیز سے تشبیہ دی جائے۔‘‘ ۳۔مالِ وارث سے لگاؤ کے متعلق سوال: امام بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ’’ قَالَ النَّبِيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم :’’ أَ یُّکُمْ مَالُ وَارِثِہٖ أَحَبُّ إِلَیْہِ مِنْ مَالِہٖ؟‘‘۔ قَالُوْا:’’ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! مَا مِنَّا أَحَدٌ إِلاَّ مَالُہٗ أَحَبُّ إِلَیْہِ؟‘‘۔ قَالَ:’’ فَإِنَّ مَالَہٗ مَا قَدَّمَ، وَمَالَ وَارِثِہٖ مَا أَخَّرَ‘‘۔[2] ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ تم میں سے کون ہے جسے اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کا مال پیارا ہو؟‘‘ انہوں نے عرض کیا:’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کو اپنا مال زیادہ پیارا نہ ہو۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ سو بے شک اس کا مال وہ ہے جو اس نے آگے بھیجا [یعنی موت سے پہلے راہ اللہ میں خرچ کیا۔]اور اس نے جو [مال]
[1] مرقاۃ المفاتیح۲/۲۶۷۔ علاوہ ازیں مثالیں بیان کرنے کے اسلوب کے متعلق تفصیل کتاب ھذا کے صفحات ۱۸۶۔۱۹۳ پر ملاحظہ فرمائیے۔ [2] صحیح البخاري، کتاب الرقاق، باب ما قَدَم من مالہ فھو لہ، رقم الحدیث ۶۴۴۲، ۱۱/۲۶۰۔