کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت معلم - صفحہ 218
اور دن کی حرمت کو راسخ کرنا چاہا تاکہ اپنے مقصود کی اس پر بنیاد رکھیں۔‘‘
حدیث شریف میں فائدہ دیگر:
اس حدیث شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خونوں، مالوں اور عزتوں کی حرمت کو یوم نحر، ماہ ذوالحجہ او ر مکہ مکرمہ کی حرمت و تقدس سے تشبیہ دی ہے اور بلا شبہ اس سے بات کے مکمل طور پر سمجھنے میں آسانی ہو تی ہے۔ علامہ طیبی رحمہ اللہ تعالیٰ نے لکھا ہے:
’’ فِيْ ھٰذَا التَّمْثِیْلِ دَلِیْلٌ عَلَی اسْتِحْبَابِ ضَرْبِ الأَمْثَالِ، وَإِلْحَاقِ النَّظِیْرِ بِالنَّظِیْرِ قِیَاسًا‘‘۔[1]
’’اس مثال کے بیان کرنے میں ایک چیز کو اس جیسی دوسری چیز پر قیاس کرنے کے استحباب کی دلیل ہے۔‘‘
۲۔پانچ دفعہ غسل کے بعد میل باقی رہنے کے متعلق پوچھنا:
امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
أَرَأَیْتُمْ لَوْ أَنَّ نَھْرًا بِبَابِ أَحَدِکُمْ یَغْتَسِلُ فِیْہِ کُلَّ یَوْمٍ خَمْسًا، مَا تَقُوْلُ ذَلِکَ یُبقِيْ مِنْ دَرَنِہٖ؟‘‘۔
قَالُوْا:’’ لَا یُبقي مِنْ دَرَنِہٖ شَیْئاً‘‘۔
قَالَ:’’ فَذَلِکَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ یَمْحُوا اللّٰہُ بِھَا الْخَطَایَا‘‘۔[2]
’’اگر کسی شخص کے دروازے پر نہر [جاری ]ہو، اور وہ روزانہ اس میں پانچ
[1] شرح الطیبی ۶/۲۰۱۵۔ اس بارے میں تفصیل کتاب ھذا کے صفحات ۱۸۶۔۱۹۳ پر دیکھئے۔
[2] متفق علیہ:صحیح البخاري، کتاب مواقیت الصلاۃ، باب الصلوات الخمس کفارۃ، رقم الحدیث ۵۲۸، ۲/۱۱؛ وصحیح مسلم، کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ، باب المشي إِلی الصلاۃ تمحی بہ الخطایا و ترفع بہ الدرجات، رقم الحدیث ۲۸۳(۶۶۷)، ۱/۴۶۲۔۴۶۳۔الفاظِ حدیث صحیح البخاری کے ہیں۔