کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت معلم - صفحہ 210
آنکھوں سے آنسو رواں ہو جائیں۔‘‘ اس حدیث شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے روزِ قیامت ظلِ الٰہی میں جگہ پانے والے سات اقسا م کے خوش نصیب لوگوں کا اجمالی ذکر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان لانے والے وہ کون سے ایسے کان ہوں گے جو اس کے بعد ان سات اقسام کی تفصیل سننے اور پھر اس کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے بے تاب اور بے قرار نہ ہوں گے؟ ۷۔دس جنتی اشخاص: امام ترمذی رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ: ’’ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم قَالَ:’’ عَشَرَۃٌ فِي الْجَنَّۃِ:أَبُوْبَکْرٍ فِي الْجَنَّۃِ، وَعُمَرُ فِي الْجَنَّۃِ، وَعَلِيٌّ وَعُثْمَانُ وَالزُّبَیْرُ وَطَلْحَۃُ وَعَبْدُ الرَّحْمٰنِ وَأَبُوْ عُبَیْدَۃَ وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ رضی اللّٰه عنہم ‘‘۔ قَالَ:’’ فَعَدَّ ھٰؤُلاَئِ التِّسْعَۃَ، وَسَکَتَ عَنِ الْعَاشِرِ ‘‘۔ فَقَالَ الْقَوْمُ:’’ نَنْشُدُکَ اللّٰہَ یَا أَبَا الْأَعْوَرِ! مَنِ الْعَاشِرُ؟‘‘۔ قَالَ:’’ نَشَدُتُمُوْنِيْ بِاللّٰہِ، أَبُو الْأَعْوَرِ فِي الْجَنَّۃِ ‘‘۔ قَالَ:’’ ھُوَ سَعِیْدُ بْنُ زَیْدِ بْنِ عَمْروِ بْنِ نُفَیْلٍ رضی اللّٰه عنہ ‘‘۔[1] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’دس اشخاص جنّت میں [داخل ہوں گے]:ابو بکر جنت میں، عمر جنت میں، علی، عثمان، الزبیر، طلحہ، عبدالرحمن، ابو عبیدہ اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم [جنت میں داخل ہوں گے۔]
[1] جامع الترمذي، أبواب المناقب، مناقب عبدالرحمٰن بن عوف بن عبد عوف الزہري رضی اللّٰه عنہ، رقم الحدیث ۳۷۴۸، ۱۰/۱۷۲۔ علامہ مبارکپوری نے تحریر کیا ہے:’’سعید بن زید رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کو احمد نے بھی متعدد اسانید سے روایت کیا ہے۔ ابن ماجہ، الدار قطنی اور الضیاء نے بھی اس کو روایت کیا ہے۔(ملاحظہ ہو:تحفۃ الأحوذي ۱۰/۱۷۲)۔ شیخ البانی نے اس کو [صحیح] قرار دیا ہے۔(ملاحظہ ہو:صحیح سنن الترمذي ۳/۲۱۸ ؛ نیز ملاحظہ ہو:صحیح سنن أبي داود ۳/۸۷۹ ؛ وصحیح الجامع الصغیر وزیادتہ ۲/۷۴۲)۔