کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت معلم - صفحہ 207
کرے تو وفا نہ کرے اور جب [کسی سے ] لڑے تو حق و انصاف سے دور ہو جاتا ہے۔ ‘‘
اس حدیث شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرات صحابہ کو پہلے اجمالی طور پر بتلایا کہ چار خصلتیں انسان کو پورا منافق بنا دیتی ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چار خصلتوں کی تفصیل بتائی۔
۴۔جنت میں لے جانے والے پانچ اعمال:
امام طبرانی رحمہ اللہ نے حصرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا:
’’ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم :’’ خَمْسٌ مَنْ جَائَ بِھِنَّ مَعَ الْإِیْمَانِ، دَخَلَ الْجَنَّۃَ :مَنْ حَافَظَ عَلَی الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ عَلَی وُضُوئِھِنَّ، وَرُکُوعِھِنَّ، وَسُجُودِھِنَّ، وَمَوَاقِیْتِھِنَّ، وَصَامَ رَمَضَانَ، وَحَجَّ الْبَیْتَ إِنِ اسْتَطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیلاً، وَأَدَّی الْأَمَانَۃَ‘‘۔
قِیْلَ:’’ یَا نَبِيَّ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم ! وَمَا أَدَائُ الْأَمَانَۃِ؟ ‘‘۔
قَالَ:’’ اَلْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَۃِ، إِنَّ اللّٰہَ لَمْ یَأْمَنِ ابْنَ آدَمَ عَلَی شَيْئٍ مِنْ دِیْنِہٖ غَیْرَھَا ‘‘۔[1]
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ایمان کے ساتھ جس نے پانچ کام کیے وہ جنت میں داخل ہو گیا:جس نے پانچوں نمازوں کی ان کے وضو، رکوع، سجوداور اوقات کے ساتھ حفاظت کی، رمضان کے روزے رکھے، استطاعت ہونے کی صورت میں بیت اللہ کا حج کیا اور امانت کو ادا کیا۔‘‘
[1] منقول از:مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، کتاب الإیمان، باب فیما بُني علیہ الإسلام، ۱/۴۷۔ حافظ ہیثمی نے اس حدیث کے متعلق تحریر کیا ہے:’’ اس کو الطبرانی نے [المعجم]الکبیر میں روایت کیا ہے اور اس کی [اسناد جید]ہے۔‘‘ (المرجع السابق ۱/۴۷)۔