کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت معلم - صفحہ 199
۶:صحابہ کو کنکریاں دکھانا:
امام نسائی رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا:
’’ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم غَدَاۃَ الْعَقَبَۃِ، وَھُوَ وَاقِفٌ عَلٰی رَاحِلَتِہٖ:’’ ھَاتِ الْقُطْ لِيْ ‘‘۔
فَلَقَطْتُ لَہٗ حَصَیَاتٍ، ھُنَّ حَصَی الخَذْفِ، فَوَضَعَھُنَّ فِي یَدِہٖ، وَجَعَلَ یَقُولُ بِھِنَّ فِيْ یَدِہٖ وَوَصَفَ یَحْیٰی تَحْرِیْکَھُنَّ فِيْ یَدِہٖ ’’ بِأَمْثَالِ ھٰؤُلاَئِ ‘‘۔[1]
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ کی صبح [2] کو فرمایا،جب کہ آپ سواری پر تھے:’’میرے لیے [کنکریاں ]اٹھا لاؤ۔‘‘
میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کنکریاں اُٹھا لایا، [اور] وہ گٹھلی کے برابر تھیں۔ [پھر] آپ نے انہیں اپنے ہاتھ میں رکھا اور ہاتھ میں انہیں حرکت دیتے ہوئے فرمایا:’’ ان جیسی ‘‘
[یحییٰ[3]نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انہیں اپنے ہاتھ میں حرکت دینے کی کیفیت کو بھی بیان کیا۔]
اس حدیث شریف سے واضح ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رمی جمرات کے لیے استعمال کی جانے والی کنکریوں کا حجم بیان کرتے ہوئے حضرات صحابہ کو اپنے دستِ مبارک میں موجود کنکریاں دکھائیں۔
حاصل کلام یہ ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اپنے اسوۂ حسنہ اور عملی بیان، دونوں طریقوں سے تعلیم دی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق تعلیم دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا ذاالجلال والإکرام۔
[1] سنن النسائي، کتاب مناسک الحج، قدر حصی الرمي، ۵/۲۶۹۔ شیخ البانی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو:صحیح سنن النسائي ۲/۶۴۰)۔
[2] (عقبہ کی صبح) سے مراد دس ذوالحجہ کی صبح ہے کہ اس دن حاجی حضرات جمرہ کبری کو کنکریاں مارتے ہیں۔
[3] (یحییٰ) حدیث کے ایک راوی۔