کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت معلم - صفحہ 191
۴۔منافق کے تردد کی مثال: امام مسلم رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، اور انہو ں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نقل کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’مَثَلُ الْمُنَافِقِ کَمَثَلِ الشَّاۃِ الْعَائِرَۃِ بَیْنَ الْغَنَمَیْنِ:تَعِیْرُ إِلٰی ھٰذِہِ مَرَّۃً، وَإِلٰی ھٰذِہٖ مَرَّۃً۔‘‘[1] ’’منافق کی مثال بکریوں کے دو ریوڑوں کے درمیان بھٹکنے والی ایک بکری کی مانند ہے جو کبھی اس [گلے ]کی طرف جاتی ہے اور کبھی اس کی طرف۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے : ’’ تَکِرُّ فِيْ ھٰذِہٖ مَرَّۃً، وَفِيْ ھٰذِہٖ مَرَّۃً۔‘‘[2] ’’وہ [بکری]ایک دفعہ اس [ریوڑ] کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور دوسری مرتبہ اس کی طرف۔‘‘ شرح حدیث میں علامہ طیبی رحمہ اللہ تعالیٰ نے تحریر کیا ہے: ’’ ضَرَبَ النَّبِيُّ عَلَیْہِ الصَّلاَۃُ وَالسَّلاَمُ لِلْمُنَافِقِ مَثَلَ السَّوْئِ، فَشَبَّہَ تَرَدُّدَہٗ بَیْنَ الطَّائِفَتَیْنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُشْرِکِیْنَ تَبَعًا لِھَوَاہُ، وَقَصْدًا لِغَرَضِہٖ الْفَاسِدِ، وَمَیْلاً إِلٰی مَا یَبْتَغِیْہِ مِنْ شَھَوَاتِہٖ بِتَرَدُّدِ الشَّاۃِ الْعَائِرَۃِ، وَھِيَ تَطْلُبُ الْفَحْلَ، فَتَتَرَدَّدُ بَیْنَ الثُّلَّتَیْنِ، فَلاَ تَسْتَقِرُّ عَلٰی حَالٍ، وَلاَ تَثْبُتُ مَعَ إِحْدَی الطَّائِفَتَیْنِ، وَبِذٰلِکَ وَصَفَھُمُ اللّٰہُ فِيْ کِتَابِہٖ، فَقَالَ عَزَّوَجَلَّ مِنْ قَائِلٍ:{مُذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِکَ لاَ إِلَی ھَؤُلاَئِ وَلاَ إِلَی ھَؤُلاَئِ}[3]
[1] صحیح مسلم، کتاب صفات المنافقین وأحکامھم، رقم الحدیث ۱۷ (۲۷۸۴)، ۴/۲۱۴۶۔ [2] المرجع السابق ۴/۲۱۴۶۔ [3] سورۃ النسآء / جزء من الآیۃ ۱۴۳۔