کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت معلم - صفحہ 189
انہوں نے بیان کیا:
’’ قَالَ النَّبِيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم :’’ مَثَلُ الَّذِيْ یَذْکُرُ رَبَّہٗ، وَالَّذِيْ لاَ یَذْکُرُ رَبَّہٗ مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَیِّتِ ‘‘۔[1]
’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اپنے رب کا ذکر کرنے والے اور ذکر نہ کرنے والے کی مثال زندہ اور مردہ جیسی ہے۔‘ ‘
اس حدیث شریف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کرنے والے کو اس زندہ شخص کے ساتھ تشبیہ دی ہے،جس کا ظاہر نورِ حیات سے مزین ہو، اور باطن علم و فہم اور ادراک سے روشن ہو، اسی طرح ذاکر کا ظاہر نورِ عمل اور اطاعت سے آراستہ ہو اور باطن نورِ علم و معرفت سے منور ہوتا ہے۔[2]
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکرنہ کرنے والے کو مردہ شخص کے ساتھ تشبیہ دی ہے جس کا ظاہر اور باطن دونوں معطل ہو چکے ہوں۔[3]
۳۔نیک اور برے دوست کی مثال:
امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نقل کی ہے کہ آپ نے فرمایا:
’’ مَثَلُ الْجَلِیْسِ الصَّالِحِ وَالسُّوْئِ کَحَامِلِ الْمِسْکِ وَنَافِخِ الْکِیْرِ، فَحَامِلُ الْمِسْکِ إِمَّا أَنْ یُحْذِیَکَ، وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْہُ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْہُ رِیْحًا طَیِّبَۃً،وَنَافِخُ الْکِیْرِ إِمَّا أَنْ یُحْرِقَ ثِیَابَکَ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِیْحًا خَبِیْثَۃً۔‘‘[4]
[1] صحیح البخاري، کتاب الدعوات، باب فضل ذکر اللّٰہ عزوجل، رقم الحدیث ۶۴۰۷، ۱۱/۲۰۸۔
[2] ملاحظہ ہو:شرح الطیبی ۵/۱۷۱۱۔
[3] ملاحظہ ہو:فتح الباري۱۱/۲۱۰۔۲۱۱۔
[4] متفق علیہ:صحیح البخاري، کتاب الذبائح والصید، باب المسک، رقم الحدیث ۵۵۳۴، ۹/۶۶۰ ؛ وصحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب استحباب مجالسۃ الصالحین ومجانبۃ قرناء السوء، رقم الحدیث۱۴۶ (۲۶۲۸)، ۴/۲۰۲۶۔الفاظ حدیث صحیح البخاري کے ہیں۔