کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت معلم - صفحہ 184
اور امام احمدرحمہ اللہ تعالیٰ کی روایت میں ہے: ‘’ ھٰذَا الْإِنْسَانُ وَھٰذَا أَجُلُہٗ، وَھٰذَا أَمَلُہٗ، یَتَعَاطَی الْأَمَلُ، یَخْتَلِجُہٗ دُوْنَ ذَلِکَ‘‘۔[1] ’’یہ انسان ہے اور یہ اس کی موت اور یہ اس کی آرزو ہے، وہ اس کے حصول کی کوشش میں ہے، [ لیکن ] وہ [ موت ] اس سے پہلے ہی اس کو دبوچ لیتی ہے۔‘‘ اس حدیث شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کی لمبی آرزوؤں اور موت کے وقت کے انتہائی قرب کو تین چھڑیاں گاڑ کر حضرات صحابہ کہ سمجھایا۔ حدیث شریف میں فائدہ دیگر: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ بتانے سے پیشتر تین چھڑیوں کو زمین میں گاڑا اور پھر فرمایا:’’ کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اسلوب مبارک سامعین کو مکمل طور پر متوجہ کرنے کے لیے ایک بہترین ذریعہ تھا۔[2] ۴۔چار خواتین کی فضیلت کا چار خطوط سے بیان: امام احمد رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ‘’ خَطَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَۃَ خُطُوْطٍ، ثُمَّ قَالَ:‘’تَدْرُوْنَ مَا ھٰذَا؟‘‘۔ فَقَالُوْا:’’ اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ أَعْلَمُ‘‘۔ فَقَالَ رَسُْولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم :’’ أَفْضَلُ نِسَائِ أَھْلِ الْجَنَّۃِ :خَدِیْجَۃُ بِنْتُ خُوَیْلِدٍ، وَفَاطِمَۃُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ صلی اللّٰه علیہ وسلم وَآسِیَۃُ بِنْتُ مَزَاحِم امْرَأَۃُ فِرْعَوْنَ، وَمَرْیَمُ ابْنَۃُ عِمْرَانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُنَّ أَجْمَعِیْنَ‘‘۔[3]
[1] المسند۳/۱۸۔ [2] اس بارے میں تفصیل کتاب ھذا کے صفحات ۲۱۴۔۲۲۱ پر دیکھئے۔ [3] المسند، رقم الحدیث ۲۶۶۸،۴؍۲۳۲(ط:مصر)؛حافظ ہیثمی نے اس حدیث کے بارے میں لکھا ہے :’’ اس کو احمد، ابو یعلیٰ اور الطبرانی نے روایت کیا ہے اور[اس کے روایت کرنے والے صحیح کے روایت کرنے والے ہیں ]۔ (مجمع الزوائد۹؍۲۲۳) ؛ شیخ احمد شاکر نے اس کی [اسنا د کو صحیح] قرار دیا ہے۔(ملاحظہ ہو:ھامش المسند ۴؍۲۳۲)۔