کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت معلم - صفحہ 182
’’ خَطَّ النَّبِيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم خَطًّا مُرَبَّعاً، وَخَطَّ خَطًّا فِي الْوَسَطِ خَارِجًا مِنْہُ، وَخَطَّ خُطَطًا صِغَارًا إِلیٰ ھٰذا الَّذِيْ فِي الْوَسَطِ مِنْ جَانِبِہِ الَّذِيْ فِي الْوَسَطِ، فَقَالَ:’’ ھٰذَا الْإِنْسَانُ، وَھٰذَا أَجَلُہٗ مُحِیْطٌ بِہٖ ــــ أَوْ قَدْ أَحَاطَ بِہٖ ــــ وَھٰذَا الَّذِيْ ھُوَ خَارِجٌ أَمَلُہٗ، وَھٰذِہِ الْخُطَطُ الصِّغَارُ الْأَعْرَاضُ، فَإِنْ أَخْطَأَہُ ھٰذا نَھَشَہٗ ھٰذَا، وَإِنْ أَخْطَأَہٗ ھٰذَا نَھَشَہٗ ھٰذَا‘‘۔[1] ’’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مربع شکل بنائی اور اس کے درمیان ایک خط کھینچا جو اس سے نکلا ہوا تھا اور [ اس کے بعد] اس [مربع شکل ]کے درمیانی خط کی طرف چھوٹے چھوٹے خطوط کھینچے اور فرمایا:’’ یہ انسان ہے، اور یہ اس کی موت اس کو گھیرے ہوئے ہے۔ یا بلاشک و شبہ اس کا احاطہ کر چکی ہے۔[2] اور یہ باہر نکلا ہوا [ خط ] اس کی آرزو ہے۔ اور یہ چھوٹے چھوٹے خطوط مصائب ہیں، پس اگر وہ ایک سے بچ نکلتا ہے تو دوسری میں پھنس جاتا ہے اور دوسری سے نکلتا ہے تو تیسری میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ ‘‘ اس حدیث شریف سے یہ بات واضح ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی آرزوؤں کی درازی اور انسان کے مسلسل مصائب اور موت کی گرفت میں ہونے کو ایک شکل بنا کر حضرات صحابہ کو سمجھایا۔ امام طیبی نے حدیث شریف میں بیان کردہ شکل اس طرح بنائی ہے:
[1] صحیح البخاري، کتاب الرقاق، باب في الأمل وطولہ، رقم الحدیث ۶۴۱۷، ۱۱/ ۲۳۵۔ ۲۳۶۔ [2] راوی کوتردد ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ ارشاد فرمایا یا سابقہ جملہ فرمایا۔ دونوں جملوں کا مفہوم ایک جیسا ہے۔