کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت معلم - صفحہ 179
’’ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم :’’ھٰذَا ابْنُ آدَمَ وَھٰذَا أَجَلُہٗ‘‘۔
وَوَضَعَ یَدَہٗ عِنْدَ قَفَاہُ، ثُمَّ بَسَطَھَا، فَقَالَ:’’ وَثَمَّ أَمَلُہٗ وَثُمَّ أَمَلُہ‘‘۔[1]
’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ یہ ابن آدم ہے اوریہ اس کی موت ہے۔‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی گدی کے قریب اپنا ہاتھ رکھا، پھر اس کو پھیلا کر فرمایا:’’ اور وہاں [ دور] اس کی امید ہے اور وہاں اس کی امید ہے۔‘‘
اس حدیث شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کی موت کے قرب اور اس کی امیدوں کے طول کو اشاروں سے بیان فرمایا۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوران تعلیم بات کی وضاحت کرنے اور اس کو مؤثر طور پر دل نشین کروانے کی غرض سے مناسب حال اشارات استعمال فرماتے تھے۔
۔۔۔۔۔۔
[1] جامع الترمذي، أبواب الزھد، باب ما جاء في قصر الأمل، رقم الحدیث ۲۴۳۴،۶/۵۱۶۔ امام ترمذی نے اس حدیث کو [حسن صحیح]کہا ہے۔ (ملاحظہ ہو:(المرجع السابق ۶/۵۱۷)؛ اور شیخ البانی نے اس کو [صحیح]قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو:صحیح سنن الترمذي۲/۲۷۲)۔