کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت معلم - صفحہ 177
’’قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم :’’ اَلْمُوْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ کَالْبُنْیَانِ یَشُدُّ بَعْضُہٗ بَعْضًا‘‘۔ ثُمَّ شَبَّکَ بَینَ أَصَابِعِہٖ‘‘۔[1]
’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے، جس کا ایک حصہ دوسرے کو مضبوط کرتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو قینچی کی طرح کیا۔‘‘
اس حدیث شریف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل ایمان کے باہمی تعلق کو عمارت کے ساتھ تشبیہ دی، پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وجہ تشبیہ اپنی انگلیوں کے ساتھ قینچی کی شکل بنا کر بیان فرمائی۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالیٰ راوی کے قول:
(پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیوں کو قینچی کی طرح کیا) کی شرح میں تحریر کرتے ہیں :
’’ھُوَ بَیَانٌ لِوَجْہِ التَّشِبِیْہِ أَیْضًا أَيْ یَشُدُّ بَعْضُھُمْ بَعْضًا مِثْلَ ھَذَا االشَّدِّ‘‘۔‘‘[2]
’’ اس میں وجہ تشبیہ کا بیان بھی ہے کہ وہ ایک دوسرے کو اسی طرح تقویت دیتے ہیں جیسا کہ انگلیاں اس طرح باہمی قوت کا سبب بنتی ہیں۔‘‘
اس کے بعد حضرت حافظ رحمہ اللہ تعالیٰ نے تحریر کیا ہے:
’’وَیُسْتَفَادُ مِنْہُ أَنَّ الَّذِيْ یُرِیْدُ الْمُبَالَغَۃَ فِي بَیَانِ أَقْوَالِہٖ یُمَثِّلُھَا بَحَرَ کَاتِہٖ لِیَکُوْنَ أَوْ قَعَ فِيْ نَفْسِ السَّامِعِ‘‘۔[3]
’’ اس [ حدیث] سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جو شحض اپنی گفتگو کے بیان میں زور پیدا کرنا چاہتا ہے وہ اشاروں سے اس کی وضاحت کرتا ہے تا کہ وہ
[1] صحیح البخاري، کتاب الأدب، باب تعاون المؤمنین بعضھم بعضاً۔ رقم الحدیث ۶۰۲۶، ۱۰/۴۵۰۔۴۵۱۔
[2] فتح الباري ۱۰/۴۵۰؛ نیز ملاحظہ ہو:شرح الطیبی ۱۰/۳۱۷۶؛ ومرقاۃ المفاتیح۸/۶۸۶۔
[3] فتح الباري۱۰/۴۵۰۔