کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت معلم - صفحہ 175
(15)
اشاروں کا استعمال
ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوران تعلیم متعلقہ موضوع کے مناسب اشارات استعمال فرمایا کرتے تھے۔ توفیق الٰہی سے ذیل میں چند ایک مثالیں پیش کی جا رہی ہیں :
۱۔ چاروں انگلیوں سے اشارہ:
حضرات ائمہ احمد، ابوداود، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ رحمہم اللہ تعالیٰ نے عبید بن فیروز سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا :’’میں نے البراء بن عازب رضی اللہ عنہما سے عرض کیا:
’’ مجھے قربانی کے ان جانوروں کے متعلق بتائیے،جن کی قربانی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند فرمایا،یا ان سے منع فرمایاہو۔‘‘
انہوں نے بیان کیا :
’’ قَامَ فِیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم قَالَ، ’’ھٰکَذَا بِیَدِہٖ، وَیَدِيْ أَقْصَرُ مِنْ یَدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم :’’ أَرْبَعٌ لَا تَجُوْزُ فِي الضَّحَایَا۔ اَلْعَوْرَائُ الْبَیِّنُ عَوْرُھَا،وَالْمَرِیْضَۃُ الْبَیِّنُ مَرَضُھَا، وَالْعَرْجَائُ الْبَیِّنُ ظَلْعُھَا، وَالْکَسِیْرَۃُ الَّتِيْ لَا تَنْقي‘‘۔[1]
[1] المسند ۴/۳۰۰(ط:المکتب الاسلامي)؛ وسنن أبي داود، کتاب الضحایا، باب ما یکرہ من الضحایا، رقم الحدیث ۲۸۰۲، ۷/۳۵۷۔۳۵۸؛ وجامع الترمذي، أبواب الأضاحي، باب ما لا یجوز من الأضاحي، رقم الحدیث ۱۵۳۰،۵/۶۷؛ وسنن النسائي، کتاب الضحایا، العرجاء، ۷/۲۱۵؛ وسنن ابن ماجہ، أبواب الأضاحي، ما یکرہ أن یضحی بہ، رقم الحدیث ۳۱۸۲، ۲/۲۰۷۔ الفاظ حدیث سنن النسائی کے ہیں۔ شیخ البانی نے اس حدیث کو [صحیح]قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو:صحیح سنن أبی داود ۲/۵۳۹؛ وصحیح سنن النسائي ۳/۹۱۳؛ وصحیح سنن ابن ماجہ ۲/۲۰۲)۔