کتاب: نبی مصطفٰی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جامع سیرت - صفحہ 5
سے بھی اسے نوازا ہے کہ جس کے ذریعے وہ شعور کی عمر کو پہنچتے ہی اچھے اور بُرے، غلط اور صحیح، شکر گزاری اور ناشکری والے دونوں متضاد راستوں کی خوب پہچان کر کے جان جاتا ہے کہ اگر کہیں ماحول، معاشرہ یا اُس کی تربیت واصلاح کرنے والے غلطی کر رہے ہوں اور اُسے کسی غلط راہ پر چلانا چاہتے ہوں تو وہ خود اپنی عقل و فہم اور شعور و ادراک سے کام لے کر سیدھی راہ کو اختیار کر لے۔ ﴿بَلِ الْاِنسَانُ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ o﴾(القیامہ:۱۴) ’’بلکہ آدمی اپنے اوپر آپ دلیل ہو گا۔‘‘ جس دور میں ہم نے آنکھ کھولی ہے اس علوم و معارف کے ذریعے روزِ روشن کی طرح واضح اس حقیقت کو ہم نے خوب جان لیا ہے اور ہزارہاسالوں کی تاریخ بیان کرنے والی کتابیں، دینی، مذہبی و آسمانی کتب اور دنیا کے ہر خطے پر پائے جانے والے آثار بھی اس شاھد کے گواہ ہیں کہ:جس خالق کائنات نے زمین و آسمان، افلاک و کواکب، چاند، ستاروں، ہواؤں، فضاؤں اور ٹھنڈے، گرم موسموں جیسی ہزارہا نعمتوں اور کائنات کے تکوینی اُمور کے ذریعے ہماری اس کرۂ ارضی کا ماحول انسان کے رہنے سہنے اور اپنی زندگی گزارنے کے لیے میسر کیا اور موزوں بنایا ہے اُس خالق انسان رب کبریاء نے اس عقل و شعور اور فہم و ادراک والی مخلوق کی مکمل اور صحیح ترین راہنمائی و قیادت کے لیے انہی انسانوں میں سے ایسے اعلیٰ اوصاف اور پختہ ترین علم والے لوگوں کا انتخاب ہر دور میں فرمایا ہے کہ جنہیں عام اصطلاح میں رسول اور انبیاء کہا جاتا ہے۔ چنانچہ اللہ عزوجل ارشاد فرماتے ہیں: ﴿وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلٌ فَاِذَا جَآئَ رَسُوْلُھُمْ قُضِیَ بَیْنَھُمْ بِالْقِسْطِ وَ ھُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ o﴾(یونس:۴۷) ’’اور ہر قوم کی طرف ایک پیغمبربھیجا گیا پھر جب اُن کا پیغمبر آیا’’ او ر انہوں نے اس کو جھٹلایا‘‘ تو انصاف کے ساتھ ان کا فیصلہ ہو گیا اور ان پر ظلم نہیں ہوتا۔‘‘ یعنی اللہ کے پیغمبر اور اُن کے اہل ایمان ساتھی اللہ کے عذاب سے بچ جاتے اور اُن کو