کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیل ونہار - صفحہ 289
قضائے حاجت کا بیان (۵۰۳)عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ رضی اللّٰہ عنہ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کَانَ إِذَا أَرَادَ الْبَرَازَ انْطَلَقَ حَتّٰی لَا یَرَاہُ أَحَدٌ۔[1] سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کا ارادہ کرتے تو اتنے دور جاتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی(بھی)نہ دیکھتا۔ (۵۰۴)عَنْ أَنَسٍ رضی اللّٰہ عنہ قَالَ:کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم إِذَا دَخَلَ الْخَلاَئَ قَالَ:(( اللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُبِکَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ))۔صحیح[2] سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلا میں داخل ہوتے تو فرماتے: ﴿اَللّٰہُمَّ إِنِّيْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ ﴾ ’’اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں جنوں اور جننیوں سے۔‘‘ (۵۰۵)عَنْ عَائِشَۃَ:أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کَانَ إِذَا خَرَجَ مِنَ الْغَائِطِ قَالَ:غُفْرَانَکَ۔[3] سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلا سے نکلتے تو فرماتے: غفرانک، اے اللہ!میں تیری مغفرت چاہتا ہوں۔ (۵۰۶)عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضى اللّٰه عنہ یَقُوْلُ:کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یَدْخُلُ الْخَلاَئَ، فَأَحْمِلُ أَنَا وَغُلاَمٌ إِدَاوَۃً مِّنْ مَّائٍ، وَعَنَزَۃً یَسْتَنْجِيْ بِالْمَائِ۔صحیح[4] سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے جاتے تو میں اور ایک(دوسرا)لڑکا پانی اور نیزہ اٹھا کر جاتے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم پانی سے استنجا فرماتے تھے۔
[1] ضعیف، أبوداود: ۲ و سندہ ضعیف۔ [2] صحیح البخاري: ۱۴۶ من حدیث شعبۃ بہ۔[السنۃ:۱۸۶] [3] صحیح، أخرجہ أبوداود :۳۰ و صححہ ابن خزیمۃ وابن حبان والحاکم والذھبي وغیرھم وقال الترمذي: ’’حسن غریب۔‘‘ [4] صحیح البخاري، الطھارۃ باب حمل العنزۃ مع الماء فی الإستنجاء:۱۵۶ مسلم: ۲۱۷ من حدیث محمد بن جعفر:غندر بہ۔