کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اس کی علامتیں - صفحہ 97
’’اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!جو انہوں نے کیا، میں وہ نہ کرسکا۔‘‘ انس رضی اللہ عنہ نے(انس بن نضر رضی اللہ عنہ کے متعلق)بیان کیا: ’’فَوَجَدْنَا بِہٖ بِضْعًا وَ ثَمَانِیْنَ ضَرْبَۃً بِالسَیْفِ أَوْ طَعْنَۃً بِرُمْحٍ أَوْ رِمْیَۃً بِسَہْمٍ، وَ وَجَدْنَاہُ قَدْ قُتِلَ، وَ قَدْ مَثَّلَ بِہِ الْمُشْرِکُوْنَ۔فَمَا عَرَفَہٗ أَحَدٌ إِلَّا أُخْتُہٗ بِبَنَانِہٖ۔‘‘ ’’ہم نے دیکھا، کہ ان کے جسم پر تلوار، تیر اور نیزے کے اسّی سے زیادہ زخم تھے اور ہم نے انہیں دیکھا، کہ وہ قتل کیے جا چکے تھے۔مشرکوں نے اُن کے ناک، کان اور دیگر اعضاء کاٹ دیے تھے۔ اُن کی ہمشیرہ کے سوا کوئی اُن کی شناخت نہ کرسکا۔ان کی ہمشیرہ نے بھی(انگلیوں کی)پوروں سے ان کی پہچان کی۔‘‘ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے مزید بیان کیا: ’’کُنَّا نَرٰی -أَوْ نَظُنُّ- أَنَّ ہٰذِہِ الْآیَۃَ نَزَلَتْ فِیْہِ وَ فِيْ أَشْبَاہِہٖ: {مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاہَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ … إِلٰی آخِرِ الْآیَۃِ۔}[1]،[2] ’’ہم یہ سمجھتے یا گمان کرتے تھے، کہ اُن(یعنی انس ابن نضر رضی اللہ عنہ)اور اُن جیسے لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی: [ترجمہ:ایمان والوں میں سے کتنے مرد ہیں، کہ جس بات کا انہوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا، اس کو سچ کر دکھلایا … آیت کے آخر تک]۔ رَضِيَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ وَ أَرْضَاہُ۔ [1] سورۃ الأحزاب /جزء من رقم الآیۃ ۲۳۔ [2] ملاحظہ ہو: صحیح البخاري، کتاب الجہاد، باب قول اللّٰه عز و جل: (من المؤمنین رجال الآیۃ، جزء من رقم الحدیث ۲۸۰۵، ۶/۲۱۔