کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اس کی علامتیں - صفحہ 95
فرمائیے: ۱:اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان کی قربانی اور دوسروں کو اس کی دعوت: جیسا کہ گزشتہ صفحات میں ذکر کیا جاچکا ہے، کہ معرکۂ احد میں اسلامی صفوں میں اضطراب پیدا ہوگیا۔لوگوں میں مشہور ہوگیا، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قتل کردیے گئے ہیں۔اس خبر سے متاثر ہوکر بعض صحابہ لڑائی چھوڑ کر بیٹھ گئے۔حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ اُن کے پاس پہنچے اور کہا: ’’مَا یُجْلِسُکُمْ؟‘‘ ’’(تمہیں لڑائی سے)کس چیز نے بٹھا دیا ہے؟‘‘ انہوں نے کہا: ’’قُتِلَ رَسُوْلُ اللّٰہُ صلي اللّٰهُ عليه وسلم۔‘‘ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قتل کردیے گئے ہیں۔‘‘ کہنے لگے: ’’فَمَاذَا تَصْنَعُوْنَ بِالْحَیَاۃِ بَعْدَہٗ؟ قُوْمُوْا، فَمُوْتُوْا عَلٰی مَا مَاتَ عَلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم۔‘‘ ’’سو ان کے بعد تمہاری زندگی کس کام کی ہے؟ اٹھو اور اُسی مشن کی خاطر اپنی جان کو قربان کرو، جس کی خاطر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جان قربان کردی۔[1] اس کے بعد انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے دینِ حق کے دفاع اور کلمۃ اللہ کی سربلندی کی خاطر اپنی جان کس طرح قربان کی؟ [1] ملاحظہ ہو: سیرۃ ابن ہشام ۳/۳۰۔نیز ملاحظہ ہو: السیرۃ النبویۃ لابن حبان البستي ص ۲۲۵؛ و جوامع السیرۃ ص ۱۶۲۔