کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اس کی علامتیں - صفحہ 91
’’ایک خاتون اپنی بیٹی کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔بیٹی کی کلائیوں میں سونے کے دو موٹے موٹے کنگن تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ’’کیا تم اس کی زکوٰۃ ادا کرتی ہو؟‘‘ خاتون نے عرض کیا:’’لَا۔‘‘ ’’نہیں۔‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أَیَسُرُّکِ أَنْ یُسَوِّرَکِ اللّٰہُ بِہِمَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ سَوَارَیْنِ مِنَ النَّارِ؟‘‘ ’’کیا تمہیں یہ بات پسند ہے، کہ اللہ تعالیٰ سونے کے ان دو کنگنوں کے بدلے میں تمہیں جہنم کی آگ کے دو کنگن پہنائیں؟‘‘ راوی نے بیان کیا: ’’فَخَلَعَتْہُمَا، فَأَلْقَتْہُمَا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم، وَ قَالَتْ: ’’ہُمَا لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَ لِرَسُوْلِہٖ صلي اللّٰهُ عليه وسلم۔‘‘[1] انہوں(یعنی ابن عمرو رضی اللہ عنہما)نے بیان کیا:’’خاتون نے وہ دونوں کنگن اتار کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کردیے اور عرض کیا:’’یہ دونوں(کنگن)اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہیں۔‘‘ اللہ اکبر!خاتون نے فرمانِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی بجا آوری میں اُن کنگنوں کی زکوٰۃ ادا کرنے پر ہی اکتفا نہ کیا، بلکہ اُن کی ملکیت ہی سے دستبردار ہوتے ہوئے انہیں [1] صحیح سنن أبي داود، کتاب الزکاۃ، باب الکنز ما ہو؟ و زکاۃ الحلي، رقم الحدیث ۱۳۸۲-۱۵۶۳، ۱/۲۹۱۔