کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اس کی علامتیں - صفحہ 90
’’بلاشبہ میرے پاس تو جبریل - علیہ السلام - آئے اور بتلایا، کہ ان جوتوں میں گندگی ہے۔‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے(مزید)فرمایا: ’’إِذَا جَائَ أَحَدُکُمُ الْمَسْجِدَ فَلْیَنْظُرْ: فَإِنْ رَأَی فِيْ نَعْلَیْہِ قَذْرًا أَوْ أَذًی، فَلْیَمْسَحْہُ، وَ لْیُصَلِّ فِیْہِمَا۔‘‘[1] ’’تم میں سے جب کوئی مسجد میں آئے، تو دیکھے:اگر جوتوں میں(یعنی ان کے ساتھ)گندگی ہو، تو اسے پونچھ کر ان میں نماز ادا کرلے۔‘‘ اللہ اکبر!وہ پاک باز اور مقدس لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں کس قدر جلدی کرنے والے تھے!رَضِيَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَ أَرْضَاھُمْ۔ ۸:خاتون کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے وعید سُن کر سونے کے کنگن اتار دینا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے والے صرف مرد ہی نہ تھے، بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والی ایمان دار عورتیں بھی اسی طرح تھیں۔اس بارے میں حدیث و سیرت کی کتابوں میں کثرت سے دلائل موجود ہیں۔ان میں سے ایک واقعہ وہ ہے جسے امام ابوداؤد نے حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے حوالے سے روایت کیا ہے۔انہوں نے بیان کیا: ’’إِنَّ امْرَأَۃً أَتَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم، وَ مَعَہَا ابْنَۃٌ لَہَا، وَ فِيْ یَدِ ابْنَتِہَا مَسَکَتَانِ غَلِیْظَتَانِ مِنْ ذَہَبٍ، فَقَالَ: أَتُعْطِیْنَ زَکَاۃَ ہٰذَا؟‘‘ [1] صحیح سنن أبي داود، کتاب الصلاۃ، باب الصلاۃ في النعل، رقم الحدیث ۶۰۵-۶۵۰، ۱/۱۲۸۔