کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اس کی علامتیں - صفحہ 89
ملاحظہ کرتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی عمل کرتے دیکھتے، تو وہ عمل کرنے کے لیے لپک پڑتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی کام سے کنارہ کش ہوتے ہوئے دیکھتے، تو یک دم اس سے دور ہوجاتے۔ان کی مقدس سیرتوں میں اس کے کتنے دلائل و شواہد ہیں۔ انہی میں سے ایک واقعہ وہ ہے، جسے امام ابوداؤد نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت کیا ہے، کہ انہوں نے بیان کیا: ’’بَیْنَمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم یُصَلِّيْ بِأَصْحَابِہٖ، إِذْ خَلَعَ نَعْلَیْہِ، فَوَضَعَہُمَا عَنْ یَسَارِہٖ۔ فَلَمَّا رَأ ٰی ذٰلِکَ الْقَوْمُ أَلْقَوْا نِعَالَہُمْ۔ فَلَمَّا قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم صَلَاتَہٗ، قَالَ: ’’مَا حَمَلَکُمْ عَلٰی إِلْقَائِ نِعَالِکُمْ؟ ’’ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو نماز پڑھاتے ہوئے اپنے جوتے اتار کر اپنی بائیں جانب رکھ دیے۔ جب لوگوں نے یہ بات دیکھی، تو انہوں نے بھی جوتے اتار دیے۔ نماز سے فارغ ہوکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تمہیں اپنے جوتوں کے اتارنے پر کس چیز نے آمادہ کیا؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’رَأَیْنَاکَ أَلْقَیْتَ نَعْلَیْکَ، فَأَلْقَیْنَا نِعَالَنَا۔‘‘ ’’ہم نے آپ کو اپنے جوتے اتارتے دیکھا، تو ہم نے بھی اپنے جوتے اتار دئیے۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’إِنَّ جِبْرِیْلَ علیہ السلام أَتَانِيْ، فَأَخْبَرَنِيْ أَنَّ فِیْہَا قَذْرًا۔‘‘