کتاب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اس کی علامتیں - صفحہ 85
أَرْضَاہُ۔ اے رب کریم!ہمیں اور ہماری نسلوں کو موت سے پہلے س عظیم سعادت سے مالامال فرما دیجیے اور پھر اپنی ملاقات کے لیے بلانے تک اس پر کاربند فرمائے رکھنا۔إِنَّکَ سَمِیْعٌ مُّجِیْبٌ۔ ۶:ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعمیل میں ریشمی مصنوعات سے اجتناب: امام طبری روایت کرتے ہیں، کہ جب اسلامی لشکر یرموک پہنچا، تو انہوں نے رومیوں کو پیغام بھیجا، کہ ہم تمہارے سردار سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔اس لیے ہمیں اپنے ہاں آنے اور اس سے گفتگو کا موقع دیجیے۔ رومی سردار کو مسلمانوں کا پیغام ملا، تو اس نے اسلامی وفد کو آنے اور ملاقات کی اجازت دے دی۔ حضراتِ صحابہ ابوعبیدہ، یزید بن ابی سفیان، حارث بن ہشام، ضِرار بن اَزور اور ابوجَندل بن سُہَیل رضی اللہ عنہم رومی سردار[1] کے پاس پہنچے، جو کہ شاہِ روم کا بھائی تھا۔رومی سردار تیس خیموں اور تیس قناتوں میں فروکش تھا، جو کہ سب ریشم کے بنے ہوئے تھے۔ اسلامی وفد جب ان خیموں اور قناتوں کے پاس پہنچا، تو انہوں نے یہ کہہ کر ان میں داخل ہونے سے انکار کردیا: ’’لَا نَسْتَحِلُّ الْحَرِیْرُ، فَابْرُزْ لَنَا۔‘‘ ’’ہم ریشمی مصنوعات کے استعمال کو جائز نہیں سمجھتے۔ہمارے ساتھ گفت و شنید کے لیے باہر آئیے۔‘‘ رومی سردار باہر بچھے ہوئے قالینوں پر آگیا۔ یہ خبر ہِرَقْل(شاہِ روم)کو پہنچی، تو کہنے لگا: [1] اس رومی سردار کا نام تذارق تھا۔(ملاحظہ ہو: البدایۃ والنہایۃ ۷/۹)۔